پالما: افریقی ملک موزمبیق کے شمالی قصبے پالما میں ہر طرف سناٹا چھایا ہواہے۔ کئی دنوں تک چلنے والی خونریزی اورداعش کے قبضے کے بعد وہاں کے رہائشی جان بچانے کے لیے سڑک کے راستے، کشتی کے ذریعہ اور پیدل بھاگ رہے ہیں۔اقوام متحدہ نے پالما پر داعش کے حملے کی مذمت کی ہے اور کہا کہ مقامی حکام کے ساتھ مل کرمتاثرین کی مدد کررہی ہے۔اقو ام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن جارک نے کہا’’ہم پالما میں اب بھی بگڑتی ہوئی صورت حال پر بے حد فکر مند ہیں جہاں 24 مارچ سے مسلح حملے شروع ہوئے اور مبینہ طور پر درجنوں لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔‘‘ دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے ایک بیان میں کہا’’ہم نے دہشت گردوں، پرتشدد دہشت گردی اور داعش کو شکست دینے کے لیے موزمبیق کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔‘‘عسکریت پسندوں نے چہارشنبہ کے روز پالما قصبے پر حملہ کردیا تھا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ ایک منظم حملہ تھا جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے جب کہ بڑی تعداد میں لوگ لاپتہ بتائے جاتے ہیں۔ سن 2017کے بعد سے عسکریت پسندوں کی خونریز کارروائیوں کا سلسلہ اب پورے شمالی موزمبیق میں پھیل چکا ہے۔