موساد نے اسماعیل ھنیہ کوشہید کرنے اسمارٹ بم دھماکہ کیا؟

   

بیروت: حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کے قتل سے واقف دو ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی موساد نے ھنیہ کو تہران میں ایرانی سرکاری رہائش گاہ پر ان کے سونے کے کمرے میں پہلے سے نصب بارودی مواد سے اڑایا ہے۔ ایکسیوس کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ موساد دھماکہ خیز ڈیوائس کو ایک اعلیٰ حفاظتی عمارت میں نصب کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔اس سے نہ صرف ایران میں اسرائیلی انٹلیجنس سرویسز کی گہری رسائی کا پتہ چلتاہے بلکہ ایرانی انٹلیجنس اور سکیورٹی سرویسز کی کمزوریوں کی بھی نشاندہی ہوتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کو بخوبی علم تھا کہ اسماعیل ھنیہ تہران کے دوروں کے دوران کس کمر میں رہے تھے۔ذرائع نے بتایا کہ بم کو کمرے میں پہلے سے نصب کیا گیا تھا۔ بم ایک ہائی ٹیک ڈیوائس تھا جس میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا گیا تھا۔ موساد کے ایجنٹوں جو ایران کی سرزمین پر موجود تھے نے دور سے دھماکہ کیا۔ ھنیہ کی کمرے میں موجودگی کی انٹلیجنس معلومات ملنے کے بعد حملہ کیا گیا۔ایک ذریعے نے کہا ہے کہ موساد کا موقف یہ تھا کہ ھنیہ کو قتل کرنے سے 7 اکتوبر کے حملے کے متاثرین کو انصاف ملے گا اور یرغمالیوں کے معاہدے کی راہ میں حائل رکاوٹ دور ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ غزہ میں حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کے مقابلے میں ھنیہ کامعاہدے پر سخت نظریہ تھا۔ اس طرح ھنیہ کسی معاہدے تک پہنچنا مشکل بنا رہے تھے۔