ہرممکن تعاون کا وعدہ، پاکستان آمدکے بعد سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انٹونیوگوٹریس کی مشترکہ پریس کانفرنس
اسلام آباد: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ پاکستان کی وجہ سے ماحولیاتی تبدیلی پر کوئی خاص منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے لیکن یہ اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں سے ایک ہے اور یہ ضروری ہے کہ عالمی برادری بالخصوص ماحولیاتی تبدیلی کا سبب بننے والے ممالک اس بات کو تسلیم کریں اور اب وہ تعمیر نو، متاثرہ افراد کی بحالی میں مدد کر کے تعاون کر سکتے ہیں۔اسلام آباد میں منعقد تقریب میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والی تباہی کا سامنا کررہا ہے اور کل دنیا کے دیگر ممالک اور خطے اس کا سامنا کر سکتے ہیں لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صورتحال کا نوٹس لیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ریسکیو اور ریلیف کے عمل سے گزر رہے ہیں اور جلد ہم تعمیر نو اور بحالی کا عمل شروع کریں گے جس کے لیے بڑی رقم کی ضرورت ہے، پاکستان اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے بہترین کوششیں کررہا ہے اور ہم عالمی برادری کی جانب سے بھی دی گئی امداد پر بھی ان کے شکر گزار ہیں۔شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے تعاون پر سیکریٹری جنرل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ہمیں ریلیف اور سیلاب سے ہونے والی تباہی کی مرمت کیلئے اگر مناسب امداد نہ ملی تو ہم مشکل میں ہوں گے، ہم اس چیلنج کی وجہ سے شدید مشکل میں ہیں اور ہمیں اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کی بھرپور مدد اور تعاون کی ضرورت ہے۔اس کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انتونیو گوتریس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد اور مصیبت کی اس گھڑی میں پاکستان کی کی مدد اور تعاون کے لیے ہرممکن ذرائع بروئے کار لائیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں پاکستانیوں کی سخاوت کا عینی شاہد ہوں جنہوں نے 60لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کی، آپ نے ان سے تعاون کیا، ان کی حفاظت کی اور اپنے محدود وسائل میں ان کو بھی حصہ بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ جب میں 2005 میں زلزلے، 2010 میں سیلاب اور اس کے بعد دہشت گردی کے واقعات کے دوران پاکستان آیا تو ان تمام واقعات کے دوران بھی لاکھوں افراد بے گھر اور نقل مکانی پر مجبور ہو گئے تھے لہٰذا مجھے معلوم ہے کہ پاکستان کے عوام پر ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے آنے والی اس غیرمعمولی سیلاب کے کس حد تک تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ عالمی برادری سے امداد کے حصول اور پاکستان کے لیے ان سے جو بھی ہو سکا وہ کریں گے کیونکہ یہ بہت المناک سانحہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لوگ اپنے پیاروں سے محروم ہو گئے ہیں، اپنے نوکریاں، مال مویشی اور فصلیں گنوا چکے ہیں جس کی وجہ سے ان لوگوں اس وقت امداد کی شدید ضرورت ہے۔انتونیو گوتریس نے عالمی برادری سے امداد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس تباہی سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو بڑے پیمانے پر مالی مدد کی ضرورت ہے اور ایک اندازے کے مطابق پاکستان اس سے 30ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا ہے۔