لوگ سردی ، کھانسی ، وائرل بخار ، گلے میں خراش سے متاثر ہورہے ہیں
حیدرآباد ۔ 20 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : شہر میں کوویڈ کیسیس میں ہورہے دن بہ دن اضافہ کے ساتھ موسمی امراض میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ جس کی وجہ صورتحال ابتر ہوگئی ہے اور اب دواخانوں میں مریضوں کی بہتات ہے ۔ دواخانے مریضوں سے بھر گئے ہیں ۔ ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ موسمی امراض جیسے وائرل بخار ، کھانسی ، سردی اور گلے میں خراش سے نمٹنے کے معاملہ میں زیادہ احتیاط سے کام لیں کیوں کہ یہ کووڈ کی علامتوں کی طرح ہیں ۔ ان امراض سے متاثرہ 70 فیصد سے زیادہ لوگوں کے کوویڈ ٹسٹ پازیٹیو ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ ہر عمر کے لوگ ان امراض سے متاثر ہورہے ہیں۔ موسمی امراض سے متاثر ہونے والے مریضوں سے خانگی ، سرکاری دواخانے اور بستی دواخانے بھرے ہوئے ہیں ۔ حالانکہ اس طرح کے امراض سے متاثر ہونے کے باوجود وہ کوئی احتیاطی اقدامات نہیں کررہے ہیں جس کی وجہ امراض پھیل رہے ہیں ۔ ہیلپنگ ہینڈ فاونڈیشن کے مجتبیٰ حسن عسکری نے کہا کہ لوگ وائرل امراض سے متاثر ہونے پر بھی لاپرواہی کررہے ہیں ۔ گھر میں اگر کوئی ایک فرد موسمی امراض سے متاثر ہورہا ہے تو باقی لوگ بھی اس سے متاثر ہورہے ہیں لیکن ہائی بی پی ، ذیابیطس اور دوسرے مسائل سے دوچار لوگ خراب حالت میں ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ سردی ، کھانسی ، گلے میں خراش جیسے موسمی امراض سے متاثر ہونے والے 70 فیصد سے زیادہ لوگوں کے کوویڈ ٹسٹ پازیٹیو آرہے ہیں ۔ ورلڈ ہیلت آرگنائزیشن کے رہنمایانہ خطوط میں بھی کہا گیا ہے کہ اس وبا میں موسمی امراض بھی وبا کی ایک علامت ہیں جب تک ٹسٹ منفی نہ ہو ۔ اس تیسری لہر میں موسمی امراض سے متاثرہ لوگوں کے کوویڈ ٹسٹ پازیٹیو آرہے ہیں ۔ مسٹر عسکری نے کہا کہ موسمی امراض سے متاثر ہونے والے شخص کو ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنا چاہئے تاکہ ان امراض کا پھیلاؤ نہ ہونے پائے بالخصوص پرانے شہر میں جہاں کیسیس میں اضافہ ہورہا ہے ۔ یہ دیکھا جارہا ہے کہ پرانے شہر میں زیادہ تر لوگ کوئی احتیاط نہیں کررہے ہیں ۔ سینئیر فزیشین ، ڈاکٹر محمد اقبال جاوید نے کہا کہ اب ، پہلی اور دوسری لہروں کے مقابل تیسری لہر شدید نہیں ہے ۔ زیادہ کیسیس موسمی بخار اور امراض کے ہیں ۔ جن کی علامات کوویڈ کی علامتوں کی طرح کی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر ان کیسیس میں مریض آٹھ تا دس دن کے علاج میں ٹھیک ہورہے ہیں اور بعض کے کیسیس شدید ہونے کی طلاعات ہیں ۔ موسمی امراض سے متاثر ہونے والوں مریضوں کو زیادہ احتیاطی تدابیر بھی اختیار کرنے چاہئے کیوں کہ یہ کوویڈ ہوسکتا ہے اور یہ گھر میں دوسرے افراد خاندان میں پھیل سکتا ہے ۔ لوگ اب بھی کوویڈ سے متعلق رہنمایانہ خطوط پر عمل نہیں کررہے ہیں ، ماسک کا استعمال نہیں کیا جارہا ہے ، ہینڈ سنیٹائزر کا استعمال نہیں ہورہا ہے اور سماجی فاصلہ کو برقرار نہیں رکھا جارہا ہے ۔ ڈاکٹر جاوید نے کہا کہ لوگوں کو اب بہت زیادہ احتیاط کرنا چاہئے کیوں کہ ہم اس وائرس کی تیسری لہر میں ہیں اور یہ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ میں لوگوں پر اس بات کے لیے زور دیتا ہوں کہ بڑے مجمع میں نہ جائیں ، شادیوں تقاریب میں شرکت سے گریز کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں ۔۔