بچوں کو ڈینگو ، عوام کو بیماریوں سے محفوظ رہنے ماہر اطباء کا مشورہ
حیدرآباد۔19جولائی (سیاست نیوز) دونوں شہروں میں موسم کی تبدیلی اور مسلسل بارش کے ساتھ ہی مکھیوں اور مچھروں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جار ہاہے اور محکمہ صحت کی جانب سے موسم میں رونما ہونے والی تبدیلی کے صحت پر مضر اثرات کے متعلق شعور بیداری کا آغاز کرتے ہوئے اس طرح کے موسم میں اختیار کی جانے والی احتیاطی تدابیر سے واقف کروایا جانے لگا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے علاقوں میں جاری مسلسل بارش کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے حالات کے متعلق محکمہ صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ اس طرح کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی موسمی بیماریوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور ان موسمی بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لئے لازمی ہے کہ اس طرح کے موسم میں مکھیوں اور مچھروں سے محفوظ رہنے کے اقدامات کئے جائیں ۔ ماہر اطباء کا کہناہے کہ موسم باراں کے آغاز اور مسلسل بارش کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی بیماریاں عام طور پر وبائی امراض ہوتی ہیں اور ان امراض کوپھیلانے میں مکھیوں اور مچھروں کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ اس طرح کے موسم میں وٹامن ڈی اور وٹامن سی کے استعمال کی مقدارمیں اضافہ کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ قوت مدافعت کو کمزور ہونے سے محفوظ رکھا جاسکے۔ماہر اطباء نے شہر میں بارشوں کے آغاز کے ساتھ ہی مکھیوں اور مچھروں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کے سلسلہ میں شہریوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اطراف و اکناف کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے اقدامات کریں تاکہ ان کے اطراف و اکناف مچھروں اور مکھیوں کی افزائش میں اضافہ کو روکا جاسکے۔ شہر میں بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کے ساتھ ہی بچوں میں کھانسی ‘ سردی‘ بخار اور دیگر امراض پائے جانے لگے ہیں اور ان علامات کا شکار بچوں کو دواخانہ سے رجوع کیا جا رہاہے جن میں بعض بچوں کو ڈینگو کی علامتوں کا شکار ہونے پر ان کے معائنہ کروائے جا رہے ہیں۔ ماہرین اطفال کا کہنا ہے کہ موسم کی تبدیلی کے سبب آنے والا ہر بخار یا سردی ڈینگو کی علامت نہیں ہوتی لیکن ان علامات کو نظرانداز بھی نہیں کیا جانا چاہئے ۔ بچوں اور ضعیف العمر شہریوں کو کھانسی ‘ بخار اور سردی کے علاوہ موسم باراں کے امراض سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کے طور پر انہیں بارش میں بھیگنے سے محفوظ رکھا جانا چاہئے علاوہ ازیں اس طرح کے موسم میں غذاء کے استعمال میں بھی احتیاط کا مظاہرہ کیا جانا چاہئے۔م