موسمی تبدیلی کے ساتھ ہی مختلف امراض میں اضافہ

   

آشوب چشم، ڈینگو، ملیریا، ٹائفائیڈ سے محفوظ رہنے کی ضرورت
حیدرآباد۔20۔جون(سیاست نیوز) تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآبادمیں موسمی تبدیلی کے سبب ہونے والی بیماریوں کا آغاز ہوچکا ہے اور ان بیماریوں سے احتیاط کے لئے ضروری ہے کہ عوام موسمی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ رہنے کے اقدامات کریں۔شدید موسم گرما کے بعد اب ریاست میں موسم باراں کا آغاز ہونے جا رہا ہے اور موسمی تبدیلی کے دوران وبائی امراض ڈینگو‘ ٹائیفڈ ‘ کے علاوہ تنفس اور دیگر امراض معمول کی بات ہوتی ہیں لیکن ان امراض کی علامات پرفوری توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے ۔تلنگانہ میں موسم باراں کا ابھی مکمل طور پر آغاز نہیں ہوا ہے لیکن وقفہ وقفہ سے ہونے والی بارشوں کے نتیجہ میں موسم تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے۔ماہر اطباء نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان امراض سے محفوظ رہنے کے لئے مچھروں سے احتیاط کے علاوہ صحت بخش اشیائے تغذیہ کے استعمال کا آغاز کریں علاوہ ازیں شدید سرد ہواؤں سے محفوظ رہتے ہوئے سانس کی تکلیف کی بیماریوں سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ ڈاکٹرس کا کہناہے کہ موسم کی تبدیلی کے انسانی صحت پر اثرات کوئی نئی بات نہیں ہے اور یہ ایک معمول کا عمل ہے لیکن اگر کسی کو شدید بخار‘ اعضاء شکنی یا سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے تو ایسی صور ت میں انہیں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع ہونا چاہئے ۔ماہر اطباء کے مطابق اگر موسم کی تبدیلی کے دوران احتیاط کیا جائے اور صحت بخش غذاء کا استعمال کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں ان عوارض سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔موسم باراں کے آغاز کے ساتھ ہی عام طور پر آشوب چشم کے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا ہے جو کہ معمول کی بات ہے لیکن آنکھوں کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ اس پر فوری توجہ دی جائے اور اس وبائی مرض کو پھیلنے سے روکنے کے اقدامات کئے جائیں۔ڈینگو سے محفوظ رہنے کے لئے اپنے اطراف و اکناف میں کسی بھی طرح کے کچہرا اور پانی جمع ہونے نہ دیں کیونکہ پانی جمع ہونے سے مچھروں کی افزائش ہوتی ہے ۔موسمی تبدیلی کے دوران اگر قوت مدافعت کو مستحکم رکھنے کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں کوئی موسمی بیماری کا شکار ہونے سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔موسمی تبدیلی کے دوران ہونے والے وبائی امراض پر قابو پانے کے لئے صفائی پر خصوصی توجہ دی جانی چاہئے تاکہ صحت مند ماحول تیار کیا جائے۔موسم باراں کے آغاز کے ساتھ ہی جگہ جگہ پانی جمع ہونے سے مچھروں کی افزائش میں ہونے والے اضافہ کو روکنے کے لئے بھی عوام کو چاق و چوبند رہتے ہوئے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے ۔3