احتیاطی تدابیر نظر انداز کرنا نقصان دہ، طبی ماہرین کی حکومت کو توجہ دہانی
حیدرآباد: کورونا کے کیسس میں کمی کے بعد سے عوام کی جانب سے احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کئے جانے پر ماہرین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان کو کورونا کا خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران تلنگانہ میں کورونا قواعد کی کھلے عام خلاف ورزیاں کی گئیں اور عوام یہ تصور کرنے لگے ہیں کہ کورونا وائرس ختم ہوچکا ہے۔ مختلف تہواروں میں ہجوم کی شرکت اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابی مہم کے علاوہ شادی بیاہ کی تقاریب میں ماسک کے استعمال اور سماجی فاصلہ کو نظرانداز کرنے پر ماہرین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو کورونا کی دوسری لہر کا خطرہ برقرار ہے۔ ڈاکٹرس کا ماننا ہے کہ ماسک کا استعمال اور سماجی دوری کی برقراری پر خصوصی توجہ دی جائے۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ اور انڈین میڈیکل اسوسی ایشن نے انتباہ دیا ہے کہ اگر عوام احتیاطی تدابیر میں کوتاہی کریں تو دوسری لہر کسی بھی وقت شروع ہوسکتی ہے۔ ماہرین و نفسیات کا کہنا ہے کہ کورونا ویکسن کی تیاری کی اطلاعات نے عوام کو مرض کے بارے میں بے خوف بنادیا ہے۔ شادی بیاہ کی تقاریب میں عوام کی جانب سے احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کرنا کورونا پھیلاؤ میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے ۔ ماہرین نے حکومت سے خواہش کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر کے سلسلہ میں سخت ہدایات جاری کریں۔ ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ عوام گھروں پہ محدود رہتے ہوئے بیزارگی محسوس کر رہے ہیں اور انہیں کورونا ویکسن پر بھروسہ بڑھنے لگا ہے ۔ اسی دوران ماہرین نے موسم سرما کو وائرس کے پھیلاؤ کیلئے خطرہ قرار دیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں قابل لحاظ کمی واقع ہوئی ہے ۔ 13 تا 15 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا جارہا ہے اور موسم سرما میں وائرس کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سی سی ایم بی کے ڈائرکٹر راکیش مشرا نے بتایا کہ جب موسم سرد ہوجائے تو ہوا کی رفتار تھم جاری ہے ، ایسے میں وائرس کے جراثیم کافی دیر تک ہوا میں برقرار رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسم سرما میں بند کمروں یا ہال میں زیادہ افراد کا جمع ہونا خطرہ سے خالی نہیں۔