امراض پر قابو پانے حکومت سے اقدامات، عوام کو بڑی حد تک احتیاط برتنے کی ضرورت
حیدرآباد۔31مئی (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں موسم کی اچانک تبدیلی وبائی امراض کے پھیلنے میں مدد کا سبب بن سکتی ہے ۔ ریاست تلنگانہ میں مانسون کی آمد کے ساتھ ہی شروع ہونے والی روایتی وبائی امراض سے نمٹنے کے اقدامات کی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں لیکن ان حالات میں عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے طرز زندگی میں تبدیلی لائیں اور مانسون کے دوران اپنی ‘ اپنے خاندان اور شہریوں کی حفاظت کیلئے نہ صرف صفائی کو یقینی بنائیں بلکہ کسی بھی طرح کی وبائی امراض کو پھیلنے سے روکنے کیلئے سماجی و معاشرتی فاصلہ برقرار رکھنے کے سلسلہ میں جاری کی جانے والی ہدایات پر عمل آوری کو یقینی بنایا جائے۔ شہرمیں اچانک موسم کی تبدیلی کے بعد مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے علاوہ محکمہ صحت کا عملہ متحرک ہوچکا ہے کیونکہ چند یوم قبل چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا تھا کہ ریاست میں موسم کی تبدیلی کے ساتھ وبائی امراض میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے اور موجودہ حالات میں وبائی امراض میں ہونے والا اضافہ شہریوں کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اسی لئے عوام محکمہ جات یا حکومت پرانحصار کرنے کے بجائے اپنے طور پر احتیاط کو یقینی بنائیں اور صفائی کے اصولوں کے ساتھ سماجی فاصلہ کے رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری کی جائے۔دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں آج دوپہر اچانک موسم خوشگوار ہوگیا اور شہر کے کئی مقامات پر بوندا باندی بھی ہوئی ۔ گذشتہ یوم تک بھی شدید گرمی کے بعد اچانک آج موسم کی تبدیلی نے نہ صرف عہدیداروں بلکہ عوام کو بھی حیرت میں مبتلاء کردیا ہے کیونکہ شہر میں مانسون کی آمد کے سلسلہ میں مختلف پیش قیاسی کی جارہی تھی اور محکمہ موسمیات کا ادعا ہے کہ آج ریکارڈ کی جانے والی موسمی تبدیلی مانسون کی آمد نہیں ہے۔ موسمی تبدیلی کے انسانی مزاج پر ہونے والے اثرات کے سلسلہ میں ماہر اطباء کا کہنا ہے کہ موسمی تبدیلی کے سبب جو وبائی امراض کا شکار ہوتے ہیں ان کی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے اور اگر وہ مرض کا شکار ہوجاتے ہیں تو ان قوت مدافعت میں مزید کمزوری ریکارڈ کی جاتی ہے ۔ اسی لئے موسمی وبائی امراض سے محفوظ رہتے ہوئے دوسروں کوبھی محفوظ رکھیں ۔ کورونا وائرس کی وباء پر موسمی تبدیلی کے کیا اثرات ہوسکتے ہیں اس سلسلہ میں ابھی تک کوئی وثوق کے ساتھ یہ بات نہیں کہہ سکتا ہے لیکن تمام ڈاکٹرس کا کہناہے انسان کی قوت مدافعت میں کمی کی صورت میں وہ کورونا وائرس سے متاثر ہوتا ہے اورقوت مدافعت میں کمی کے سبب ہی کورونا وائرس کے جراثیم سے مقابلہ کی صلاحیت جسم میں کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ اسی لئے موسمی تبدیلی کے اس دور میں قوت مدافعت کے استحکام کو یقینی بنائیں اور پر ہجوم مقامات سے دور رہتے ہوئے اپنی اور اپنے افراد خاندان کی حفاظت کریں۔
