ہزاروں کروڑ کی بے قاعدگیاں، کئی خاندان بے گھر ،کے ٹی آر کا الزام، متاثرین کی امداد اور بازآبادکاری کیلئے حکومت کا تیقن
حیدرآباد۔ 18 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں آج موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ پر گرما گرما مباحث ہوئے۔ حکومت نے غریبوں کو متاثر کئے بغیر پراجکٹ کی تکمیل کا دعویٰ کیا جبکہ اپوزیشن بی آر ایس نے پراجکٹ کے نام پر بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کا الزام عائد کیا۔ پراجکٹ کی تکمیل کے سلسلہ میں حکومت کے موقف پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بی آر ایس ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ وقفہ سوالات کے دوران بی آر ایس کے رکن کے ٹی راما راؤ نے موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کے بارے میں حکومت سے وضاحتیں طلب کیں۔ ان کا کہنا تھاکہ پراجکٹ کے لئے حکومت کے پاس نہ ہی فنڈس دستیاب ہیں اور نہ کوئی واضح منصوبہ بندی ہے۔ ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے ابھی تک قرض جاری نہیں کیا ہے۔ انہوں نے موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کے نام پر دیڑھ لاکھ کروڑ کی بے قاعدگیوں کا الزام عائد کیا اور کہا کہ بی آر ایس بڑے پیمانے پر لوٹ کی مخالفت کرتی ہے۔ بی آر ایس ارکان نے نعرہ بازی کے ساتھ ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا اور وزیر امور مقننہ ڈی سریدھر بابو نے کے ٹی آر کے الزامات کی تردید کی۔ سریدھر بابو نے کہا کہ پراجکٹ کے بارے میں بی آر ایس قائدین عوام میں گمراہ کن پروپگنڈہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت غریبوں کی زندگی میں نمایاں تبدیلی کی خواہاں ہے جبکہ بی آر ایس پراجکٹ کی مخالفت کررہی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ موسیٰ ندی کے اطراف کے علاقوں میں بسنے والے غریب خاندانوں کی بھلائی اور بازآبادکاری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ حیدرآباد کی ترقی کے ساتھ ساتھ موسیٰ ندی کے اطراف کے علاقوں کو معاشی اور تجارتی زون میں تبدیل کرتے ہوئے سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی کی صفائی اور اس کی عظمت رفتہ کی بحالی کے تحت پراجکٹ تیار کیا گیا ہے۔ 1
(سلسلہ اندرونی صفحہ پر)
انہوں نے تیقن دیا کہ پراجکٹ کے نتیجہ میں متاثر ہونے والے تمام خاندانوں کی بازآبادکاری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ موسی ندی میں پہنچنے والی تمام سیویج لائنوں کو ٹریٹمنٹ پلانٹس کے ذریعہ صفائی کا کام انجام دیا جائے گا۔ کے ٹی آر نے الزام عائد کیا کہ موسیٰ ندی کو آلودگی میں تبدیل کرنے کے لئے کانگریس ذمہ دار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی موسیٰ ندی کی ترقی کے خلاف نہیں ہے تاہم پراجکٹ کے نام پر سینکڑوں کروڑ کے کرپشن اور بے قاعدگیوں کی مخالفت کرتی ہے۔ سریدھر بابو نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ موسیٰ ندی کی صفائی کے ذریعہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ تفصیلی پراجکٹ رپورٹ کی تیاری کا کام مین ہارٹ نامی کمپنی کو ڈسمبر 2024 میں دیا گیا اور فروری 2026 میں کمپنی نے تفصیلی پراجکٹ رپورٹ کو قطعیت دی۔ انہوں نے پراجکٹ رپورٹ کی تیاری میں تاخیر کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی ترقیاتی بورڈ کے مجوزہ اجلاس میں رپورٹ کو منظوری دی جائے گی۔ انہوں نے بی آر ایس دور حکومت کے پراجکٹس کے تعمیری کاموں کو روکنے کی تردید کی اور کہا کہ موجودہ حکومت نے زیر تکمیل پراجکٹس کو 70 فیصد تک مکمل کرلیا ہے اور جلد ہی باقی کام مکمل کئے جائیں گے۔ سریدھر بابو نے کہا کہ 6500 تا 7000 کروڑ کے مصارف سے پراجکٹ کے پہلے مرحلہ کی رپورٹ تیار کی گئی ہے۔ پہلے مرحلہ میں 1435 عمارتوں کے متاثر ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثر ہونے والی عمارتوں کی نشاندہی کا کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بفر زون میں بسنے والے افراد کو مناسب معاوضہ اور بازآبادکاری کی جائے گی۔ وزراء کی وضاحت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کے ٹی آر نے جاننا چاہا کہ کتنے مراحل میں پراجکٹ مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹ کی مالیت 16,000 کروڑ ہے جبکہ چیف منسٹر 1.5 لاکھ کا دعویٰ کررہے ہیں۔ بی آر ایس رکن سدھیر ریڈی نے کہا کہ پراجکٹ کے نتیجہ میں موسیٰ ندی آبگیر علاقوں میں بسنے والے خاندانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ جنوری میں حکومت نے اعلان کیا تھا کہ 18 ماہ میں رپورٹ تیار کی جائے گی لیکن اندرون دو ماہ تفصیلی پراجکٹ رپورٹ کی تکمیل کا دعویٰ باعث حیرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹ رپورٹ کی تفصیلات عوام کے درمیان پیش کی جائیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جس کمپنی کو پراجکٹ رپورٹ کی تیاری کا کام دیا گیا ہے اس پر کئی ممالک بشمول پاکستان نے پابندی عائد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹ کے نام پر غریبوں کے مکانات پر بلڈوزر چلایا جارہا ہے۔ حکومت کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بی آر ایس نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ 1