موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کے نام پر غریبوں کو بیدخل نہ کیا جائے: ہریش راؤ

   

Ferty9 Clinic

مکانات کے انہدام پر احتجاج کی دھمکی، پراجکٹ کا حقیقی تخمینہ پیش کرنے اسمبلی میں حکومت سے مطالبہ
حیدرآباد ۔2 ۔ جنوری (سیاست نیوز) ڈپٹی لیڈر بی آر ایس ہریش راؤ نے موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کی تکمیل کیلئے غریبوں کو بے گھر کرنے کی مخالفت کی اور کہا کہ بی آر ایس ترقیاتی پراجکٹ کے خلاف نہیں ہے تاہم موسیٰ ندی کے اطراف بسنے والے غریبوں کو بازآبادکاری منصوبہ کے ذریعہ متبادل مکانات فراہم کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کے مکانات کے انہدام کی صورت میں بی آر ایس احتجاج کرے گی اور بلڈوزرس کے آگے قائدین دھرنا منظم کریں گے۔ قانون ساز اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے ہریش راؤ نے حکومت سے جاننا چاہا کہ موسیٰ ندی ترقیاتی منصوبہ کا حقیقی تخمینہ کیا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ایک مرتبہ ایک لاکھ کروڑ اور دوسری مرتبہ 1.5 لاکھ کروڑ کا اعلان کیا جس کے نتیجہ میں عوام میں الجھن پائی جاتی ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ بی آر ایس پراجکٹ کے خلاف نہیں ہے لیکن جس انداز میں غریبوں کے مکانات منہدم کئے گئے ، اس کی تائید نہیں کی جاسکتی۔ ہریش راؤ نے پراجکٹ اور اس کے خرچ کے بارے میں ارکان کو تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس سرکاری ملازمین کے بلز اور طلبہ کی اسکالرشپ کے لئے بجٹ نہیں ہے لیکن موسیٰ ندی ترقیاتی منصوبہ کے لئے بڑے اعلانات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے جاننا چاہا کہ ایک لاکھ کروڑ کہاں سے حاصل کئے جائیں گے۔ انہوں نے حکومت سے جاننا چاہا کہ ترقیاتی منصوبہ کے تحت تاحال کتنے مکانات منہدم کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کو 2013 کے حصول اراضی قانون کے تحت پیاکیج دیا جانا چاہئے ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں تعمیر کئے گئے ڈبل بیڈروم مکانات میں متاثرہ خاندانوں کو منتقل کیا جارہا ہے ۔ 2013 کے قانون کے مطابق متاثرین کو 14 لاکھ روپئے معاوضہ دیا جانا چاہئے ۔ قدیم مکان کا اسٹیمیٹ کرتے ہوئے معاوضہ دیا جائے۔ انہوں نے ہر خاندان کو 200 گز اراضی یا مکان کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ ہریش راؤ نے پراجکٹ کے لئے سرکاری اور خانگی جائیدادوں کے حصول کی تفصیلات پیش کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی میں گوداوری کا پانی منتقل کرنے کا آخر کیا منصوبہ ہے۔ کالیشورم کے ملنا ساگر سے موسیٰ ندی میں پانی منتقل کیا جائے گا یا پھر کوئی اور حکمت عملی حکومت کے زیر غور ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے اطراف حکومت کی اراضیات کو متاثرہ خاندانوں میں الاٹ کیا جانا چاہئے ۔ بی آر ایس کے رکن کے وینکٹیش نے کہا کہ عنبر پیٹ اسمبلی حلقہ میں موسیٰ ندی پانچ کیلو میٹر کا احاطہ کرتی ہے۔ انہوں نے متاثرہ غریب خاندانوں کو متبادل مکانات کی فراہمی کا مطالبہ کیا ۔ کانگریس کے بالو نائک ، ڈی ناگیندر ، مال ریڈی رنگا ریڈی اور بی جے پی رکن پی شنکر نے بھی ضمنی سوالات کئے۔1