موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کے کاموں کا فروری میں آغاز: سریدھر بابو

   

Ferty9 Clinic

پراجکٹ رپورٹ عنقریب مکمل ہوگی، 5 علحدہ زونس کے تحت ترقیاتی منصوبہ
حیدرآباد ۔2 ۔ جنوری (سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی ڈی سریدھر بابو نے کہا کہ موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کا مقصد موسیٰ ندی کی صفائی اور اطراف کے علاقوں کو خوبصورت بنانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آلودگی کو ختم کرتے ہوئے حیدرآباد سے نلگنڈہ تک صاف پانی کے بہاؤ کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ نلگنڈہ کو فلورائیڈ کے مسئلہ سے نجات دلائی جاسکے۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے سریدھر بابو نے کہا کہ عثمان ساگر سے باپو گھاٹ تک پہلے مرحلہ میں ترقیاتی کام انجام دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹ کو 5 زون میں تقسیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹ کی تفصیلی رپورٹ جلد ہی مکمل کرلی جائے گی۔ ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے پراجکٹ کیلئے 4100 کروڑ قرض فراہم کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ پہلے مرحلہ میں 55 کیلو میٹر کے ترقیاتی کام انجام دیئے جائیں گے۔ سریدھر بابو نے بتایا کہ پراجکٹ کا ماسٹر پلان تیار کرنے کیلئے تین خانگی کمپنیوں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں اور انہیں پراجکٹ رپورٹ پیش کرنے کیلئے 18 ماہ کی مہلت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی اور عیسیٰ ندی کے سنگم باپو گھاٹ پر گاندھی سروور کو ترقی دی جائے گی جہاں مہاتما گاندھی کا قد آور مجسمہ نصب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ باپو گھاٹ کی ترقی کیلئے اطراف کی ڈیفنس اراضی حاصل کرنے کی مساعی جاری ہے۔ پراجکٹ کو 5 علحدہ زون میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ موسیٰ ندی ریور ڈیولپمنٹ کارپوریشن پہلے زون کے تحت 21 کیلو میٹر کے ترقیاتی کاموں کی تکمیل کرے گا۔ عثمان ساگر اور حمایت ساگر سے باپو گھاٹ تک 55 کیلو میٹر کی پہلے مرحلہ میں تکمیل ہوگی۔ تلنگانہ حکومت نے پراجکٹ کیلئے مرکزی وزارت جل شکتی سے 3188 کروڑ کی درخواست کی ہے۔ پراجکٹ کی ابتدائی رپورٹ مرکز کو روانہ کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کے ذریعہ پانی کی صفائی عمل میں آئے گی۔ گوداوری سے 2.5 ٹی ایم سی پانی حاصل کرتے ہوئے موسیٰ ندی میں منتقل کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ میر عالم ٹینک پر تعمیر کئے جانے والے بریج کا کام مسرس کے این آر کنسٹرکشنس لمٹیڈ کے حوالے کیا گیا۔سریدھر بابو نے بتایا کہ پراجکٹ رپورٹ 4 ہفتوں میں مکمل کرلی جائے گی اور فروری یا مارچ میں کاموں کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پہلے زون کے تحت دو سال میں 21 کیلو میٹر کے کام مکمل کرلئے جائیں گے۔1