ایشین ڈیولپمنٹ بینک سے 4 ہزار کروڑ کا قرض، متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری ، پرانے شہر کی جامع ترقی ، اسمبلی میں چیف منسٹر کا بیان
نظام حیدرآباد کے ترقیاتی کاموں کی ستائش، موسیٰ ندی کے اطراف نائیٹ اکنامی، میٹرو پراجکٹ پر تیزی سے عمل آوری
حیدرآباد ۔2 ۔ جنوری (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اعلان کیا کہ شہر کی ترقی سے متعلق موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کو 31 مارچ تک قطعیت دی جائیگی اور فوری ٹنڈرس طلب کرکے کاموں کا آغاز ہوگا۔ تلنگانہ اسمبلی میں پراجکٹ پر بیان دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے موسیٰ ندی پراجکٹ کیلئے 4000 کروڑ قرض فراہم کرنے سے اتفاق کرلیا ہے ۔ مرکزی حکومت نے پراجکٹ کے تحت گاندھی سروور کی ترقی کو منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ باپو گھاٹ موسیٰ اور عیسیٰ ندیوں کے سنگم پر تعمیر کیا گیا ہے جہاں مہاتما گاندھی کی استھیوں کو بہایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کاکتیہ ، قطب شاہی اور نظام حکمرانوں نے دریاوں کے اطراف علاقوں کی ترقی کیلئے کئی اقدامات کئے۔ انہوں نے کہا کہ آبپاشی ضرورتوں کے علاوہ پینے کے پانی اور صنعتی ترقی کیلئے ذخائر آب تعمیر کئے گئے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ پراجکٹ کی تفصیلی رپورٹ کی تیاری کے بعد ارکان اسمبلی کیلئے پاور پوائنٹ پریزینٹیشن رہے گا تاکہ تجاویز حاصل کی جائیں ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت نے عثمان ساگر اور حمایت ساگر میں با اثر خاندانوں کی جانب سے فارم ہاؤس کا ڈرینج واٹر منتقل کرنے کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1908 میں طغیانی کے بعد نظام حیدرآباد نے عثمان ساگر اور حمایت ساگر تعمیر کیا تاکہ حیدرآباد کو سیلاب سے بچایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک سو سال سے زائد گزرنے کے باوجود دونوں ذخائر آب حیدرآباد کے عوام کی پیاس مٹارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ موسیٰ ندیپراجکٹ کو قطعیت دینے سے قبل انہوں نے لندن ، نیویارک ، جاپان ، جنوبی کوریا اور سنگا پور کا دورہ کرکے ندیوں کے ترقیاتی اقدامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں سابرمتی ریور ڈیولپمنٹ کیلئے 60 ہزار خاندانوں کو منتقل کیا گیا ۔ گنگا کی ترقی کیلئے کئی خاندان منتقل کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ نلگنڈہ ضلع کے عوام موسیٰ ندی میں آلودی سے متاثر ہے۔ صنعتی آلودگی اور جانوروں کے فضلہ سے آلودگی میں اضافہ ہوا ہے۔ موسیٰ ندی کے قریب بسنے والے خاندانوں کو صحت کے مسائل درپیش ہیں ۔ بچوں کی پیدائش جسمانی معذوری کے ساتھ ہورہی ہے جس کے نتیجہ میں عوام اپنے بچوں کی شادی کیلئے حیدرآباد کا رخ کر رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ گوداوری سے 15 ٹی ایم سی پانی حاصل کرکے موسیٰ ندی کو صاف ستھری ندی میں تبدیل کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ سابق حکمرانوں نے موسیٰ ندی کے اطراف تمام مذاہب کی عبادت گاہیں تعمیر کرکے قومی یکجہتی کی مثال قائم کی تھی۔ مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے گاندھی سروور پراجکٹ کیلئے ڈیفنس اراضی الاٹ کرنے اتفاق کیا۔ ریونت ریڈی نے اپوزیشن کی جانب سے انہیں رئیل اسٹیٹ بروکر قرار دینے کی مذمت کی اور کہا کہ رئیل اسٹیٹ ایک انڈسٹری ہے اور ہائی ٹیک سٹی کے قیام کے وقت بھی حکمرانوں کے خلاف یہی الزامات عائد کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ 20 برسوں میں شہری علاقوں کی ترقی میں 75 فیصد کا اضافہ ہوگا۔ چیف منسٹر نے پرانے شہر کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پرانا شہر دراصل اصلی شہر ہے اور حکومت پرانے شہر کی تہذیب و روایات کا احیاط عمل میں لائے گی۔ انہوں نے چندرائن گٹہ تک میٹرو کے توسیعی کاموں کا حوالہ دیا اور کہا کہ اراضی کے حصول کا کام تیزی سے جاری ہے۔ حکومت نے پرانے شہر کی ترقی کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی کے اطراف کے علاقہ کو ترقی دیتے ہوئے نائیٹ اکنامی میں تبدیل کیا جائے گا اور رات بھر تجارتی سرگرمیوں کی اجازت رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پراجکٹ کے متاثرہ خاندانوں کیلئے مکانات ، اسکول اور ہاسپٹل تعمیر کرتے ہوئے روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ چیف منسٹر نے شہر کے ارکان اسمبلی کو سرکاری خرچ پر بیرونی دورہ کی پیشکش کی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ نظام حیدرآباد میں جو ترقیاتی کام انجام دیئے ، انہیں فراموش کیا جارہا ہے ۔ 1
