موسیٰ ندی پراجکٹ، حصول اراضیات کا عمل شروع

   

اراضیات سے محروم افراد کو مارکٹ قدر پر معاوضہ کا اعلان: حکومت
حیدرآباد ۔ 11 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد میں موسیٰ ندی کے احیاء اور ترقیاتی منصوبے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے ۔ حکومت نے حصول اراضیات کا عمل باقاعدہ طور پر شروع کردیا ہے ۔ موسیٰ ریور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمٹیڈ کے مطابق منصوبے فیس اے 1 میں حمایت ساگر سے گاندھی سروور تک تقریبا 9.2 کلو میٹر اور فیس اے 2 میں عثمان ساگر سے گاندھی سروور تک 11.8 کلو میٹر کے دائرے میں اراضی حاصل کی جائے گی ۔ حکام نے بتایا کہ حیدرآباد کے گولکنڈہ منڈل اور ضلع رنگاریڈی کے گنڈی پیٹ منڈل کے حدود میں اراضی کے حصول کے لیے نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا ہے اور 50 ایکڑ سے زائد اراضی حاصل کرنے کا عمل شروع ہوچکا ہے ۔ مالکان اراضیات کو مارکٹ قدر کی بنیاد پر معاوضہ ادا کیا جائے گا جب کہ متعلقہ افراد کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے ٹائیٹل ڈیڈ ، پٹہ ، آدھار کارڈ اور بینک اکاونٹ کی تفصیلات مقررہ مدت میں جمع کرائے ۔ اگر کسی کو اعتراض ہو تو اسے بھی طئے شدہ وقت کے اندر پیش کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے ۔ حکام کے مطابق یہ عمل حصول اراضی ایکٹ 2013 کی دفعات کے تحت انجام دیا جائے گا ۔ سروے نمبرس اور متعلقہ دیہات کی مکمل فہرست بھی جاری کردی گئی ہے ۔ موسیٰ ندی کی ترقیاتی سرگرمیاں اضلاع میں حیدرآباد ، رنگاریڈی اور میڑچل ، ملکاجگری میں مرحلہ واری جاری رہے گی ۔ یہ منصوبہ گنڈی پیٹ سے گوریلی تک تقریبا 55 کلو میٹر کے علاقے پر محیط ہوگا اور 14 منڈلوں کے 46 دیہات اس کے دائرہ کار میں آئیں گے ۔ 2
حکومت کا کہنا ہے کہ اس پراجکٹ کا مقصد موسیٰ ندی کی صفائی ، ماحولیات کی بحالی ، سیلابی خطرات میں کمی اور شہری بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے ۔ 2