حیدرآباد ۔ 14 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : ریاستی حکومت نے موسیٰ ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ پراجکٹ کے لیے جائیدادوں کے حصول کے عمل کو مالکین کے لیے اعلامیہ جات جاری کرتے ہوئے تیز تر کردیا ہے ۔ حمایت ساگر اور باپو گھاٹ کے درمیان اور عثمان ساگر اور باپو گھاٹ کے درمیان اسٹریچ کے لیے گذشتہ چند دنوں میں کئی حصول اراضی نوٹسیس شائع کی گئیں اور گاندھی سروور پراجکٹ کے لیے بھی جہاں دنیا کے بلند ترین مہاتما گاندھی کے مجسمہ کو عیسیٰ اور موسیٰ ندیوں کے سنگم پر نصب کرنے کی تجویز ہے 10 فروری کو موسیٰ ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمٹیڈ نے ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے حمایت ساگر اور گاندھی سروور کے درمیان عیسیٰ ندی کے 9.2 کلومیٹر اسٹریچ کے دونوں جانب اور عثمان ساگر اور گاندھی سروور کے درمیان موسیٰ ندی کے 11.8 کلومیٹر اسٹریچ کے دونوں جانب کے جائیداد مالکین کو عہدیداروں سے رجوع ہوتے ہوئے ٹرانسفریبل ڈیولپمنٹ رائٹس (TDRS) کے بدلے ان کی زمین رضاکارانہ طور پر حوالہ کرنے کے لیے مدعو کیا ہے ۔ اس اعلامیہ میں قسمت پور ، حیدرگوڑہ ، بنڈلہ گوڑہ جاگیر ، بدویل ، اپرپلی ، گنڈی پیٹ ، نارسنگی ، منچرپولا ، ابراہیم باغ ، قلعہ محمد نگر ، گندھم گوڑہ ، حیدر شاہ کوٹ جیسے علاقوں اور دیگر میں سروے نمبرات کی ایک بڑی تعداد کا ذکر کیا گیا ہے ۔ ریونیو ڈیویژنل آفیسر ، راجندر نگر کی جانب سے جاری کردہ مزید دو اعلامیہ جات میں گنڈی پیٹ منڈل میں قسمت پور ولیج اور بنڈلہ گوڑہ جاگیر میں حصول اراضی کیلئے کئی سروے نمبرات کا ذکر کیا گیا ہے ۔ صرف ان دو ولیجس سے جملہ 29 ایکر کے اراضیات کا حصول کیا جائے گا ۔ یہ بات بھی کہی گئی کہ اس پراجکٹ کو سوشیل امپیاکٹ اسیسمنٹ اینڈ فوڈ سیکوریٹی پرویویژنس آف دی رائیٹ ٹو فیر کمپنیزیشن اینڈ ٹرانسپرنسی ان لینڈ اکویزیشن ، ریہبلیٹیشن اینڈ ری سٹلمنٹ ایکٹ 2023 سے مستثنیٰ رکھتے ہوئے ایک گزٹ اعلامیہ جاری کیا جاچکا ہے ۔ 16 دسمبر 2025 کے گزٹ اعلامیہ میں کہا گیا کہ 55 کلو میٹر کی اسٹریچ کے اس پراجکٹ کیلئے 3279 ایکرس اور 10007 جائیدادوں کا حصول کیا جائیگا ۔۔ A