16 ہزار کروڑ کے پراجکٹ کو 1.50 لاکھ کروڑ تک پہونچا دیا گیا ، عوام میں ناراضگی
حیدرآباد 5 مارچ ( سیاست نیوز ) بی آر ایس ورکنگ صدر کے ٹی آر نے چیف منسٹر ریونت ریڈی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت موسیٰ ندی کی تزئین و آرائش کے نام پر لوٹ مار میں مصروف ہے ۔ آج کے ٹی آر نے بی آر ایس قائدین کے ساتھ ناگول کے آب گیر علاقوں کا دورہ کرکے بی آر ایس دور میں کئے گئے بیوٹیفیکیشن کاموں کا جائزہ لیا ۔ اس موقع پر کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس حکومت نے موسیٰ ندی میں سیوریج کے پانی کو ٹریٹ کرنے پہل کی تھی اور ناگول میں ملک کا سب سے بڑا ایس ٹی پی تعمیر کیا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کو تقریبا 4 ہزار کروڑ روپئے کی لاگت سے تیار کیا گیا تھا ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس دور میں موسیٰ ندی کی ترقی کا کام مکانات منہدم کئے بغیر اور عوام کی زمین متاثر کئے بغیر کئے گئے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس ایس ٹی پی کی تعمیر کا 85 فیصد کام دسمبر 2023 تک مکمل ہوچکا تھا ۔ اس کے علاوہ کے سی آر حکومت نے موسیٰ ندی پر 15 بریجس کی منظوری دی تھی ۔ کے سی آر نے ترقیافتہ تلنگانہ کو سونے کے تھالے میں پیش کیا تھا ۔ جبکہ کانگریس حکومت میں تباہی ہورہی ہے ۔ کے ٹی آر نے الزام لگایا کہ کانگریس نے مفادات کی تکمیل کیلئے 16 ہزار کروڑ لاگت والے پراجکٹ کو 10 گنا اضافہ کرکے 1.50 لاکھ کروڑ تک پہونچا دیا اور بھاری اسکام کیا جارہا ہے ۔ کانگریس حکومت حیڈرا کے نام پر انتشار پھیلا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے بھائی تروپتی ریڈی کا گھر ایف ٹی ایل میں ہونے کے باوجود اس کو منہدم کرنے کی ہمت نہیں کی گئی ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ محبوب نگر میں معذور افراد کے مکانات کو مسمار کیا گیا ۔ جبکہ کھمم میں غریبوں کی جھونپڑیوں کو زمین دوز کیا گیا ۔ راہول گاندھی اس کارروائی کو نظر انداز کررہے ہیں ۔2