موسیٰ ندی کو عالمی سیاحتی مرکز بنانے کے لیے مساعی

   

وزیر اطلاعات پی سرینواس ریڈی کا سیول کی خوشنما ندی کا معائنہ ، پراجکٹ کا گہرائی کے ساتھ جائزہ
حیدرآباد ۔ 21 ۔ اکٹوبر : ( اسماعیل احمد سیول سے ) : تلنگانہ میں برسر اقتدار اے ریونت ریڈی کی زیر قیادت کانگریس حکومت موسیٰ ندی کو جو تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد سے گزرتی ہے اور جس کو ایشیاء کی سب سے بڑی ندی ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ عالمی معیارات کے مطابق فروغ دے رہی ہے ۔ یہ ایک قابل تحسین مساعی ہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی کے ویژن کے مطابق موسیٰ ندی کو قابل رشک انداز میں فروغ دیا جارہا ہے اور اس ندی اور اُس کے آس پاس کے ماحول کو پر فضا ، دلکش اور قدرتی حسن کی دولت سے مالا مال کیا جارہا ہے ۔ اس عظیم الشان پراجکٹ کے ایک حصہ کے طور پر موسیٰ ندی کی گندگی کی صفائی کی جارہی ہے اور اُس کو اُن اجزاء سے پاک کیا جارہا ہے جو انسانی صحت کے لیے مضرت رساں ہے ۔ موسی ندی کو کچھ اس طرح فروغ دیا جارہا ہے کہ اسے دیکھ کر بے حد خوشی محسوس ہوگی ۔ موسیٰ ندی کا پانی پاک و صاف رہے گا ، ندی اور آس پاس کا ماحول انتہائی صحت بخش رہے گا ۔ موسی ندی کو فروغ دینے اور اُس کے آس پاس کے ماحول کو بہت ہی اچھا بنانے کے اِس پراجکٹ کی تکمیل پر موسیٰ ندی اور اُس کے آس پاس کے علاقوں کو ایک عالمی پسندیدہ سیاحتی منزل کی حیثیت حاصل ہوجائے گی ۔ نہ صرف حیدرآباد کے لوگ سیر و تفریح کے لیے موسی ندی پراجکٹ کا رخ کریں گے بلکہ سارے ہندستان اور دنیا کے مختلف ممالک کے سیاح جب حیدرآباد کی سیر کے لیے آئیں گے موسیٰ ندی پراجکٹ کو ضرور دیکھنا چاہیں گے اور اس کی سیر کرتے ہوئے لطف اندوز ہوں گے ۔ علاوہ ازیں موسیٰ ندی کے قریب واقع علاقوں میں رہنے والے لوگ صحت بخش فضا میں سانس لیں سکیں گے اور آرام و سکون کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں گے ۔ موسی ندی اور اس کے آس پاس کے ماحول کو جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول کے درمیان سے گزرنے والی چنگ گیچن اسٹریمر اسٹوریسن ندی کے خطوط پر فروغ دینے کا ارادہ ہے جو 13.7 کیلو میٹر طویل ہے اور جو شہر کے تجارتی علاقوں سے گزرتی ہے ۔ یہ ندی بھی پہلے صاف نہیں تھی اور اس میں کافی گندگی تھی ، حکومت جنوبی کوریا کی مساعی سے اس ندی کو صاف کرتے ہوئے فروغ دیا گیا تھا اور اُس کے آس پاس کے ماحول کو بھی پر فضا بناکر سیاحتی مقام میں تبدیل کردیا گیا تھا ۔ وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ تلنگانہ پی سرینواس ریڈی نے ریاست کے وفد کی جس میں عوامی نمائندے ، عہدیدار اور صحیفہ نگار شامل تھے قیادت کرتے ہوئے آج سیول شہر کی اس ندی اور اُس کے آس پاس کے ماحول کا معائنہ کیا اور اُس کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیا ۔ وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر ، پرنسپال سکریٹری ، محکمہ بلدی نظم و نسق دانا کشور ، کمشنر اطلاعات و تعلقات عامہ ، ہنمنت راؤ ، وزیر پارلیمنٹ سی کرن کمار ریڈی ، ارکان اسمبلی پرکاش گوڑ ، کالے یادیا ، مال ریڈی رنگاریڈی ، مئیر حیدرآباد ، وجئے لکشمی ، ڈپٹی مئیر سری لتا اور دوسرے لوگ شامل ہیں ۔ سرینواس ریڈی نے نمائندہ خصوصی سیاحت کے سوال کے جواب میں یہ بتایا کہ موسیٰ ندی کو فروغ دینے کے پراجکٹ پر عمل آوری کے لیے ندی کے اس پاس کے علاقوں میں جن افراد کے گھروں کو منہدم کردیا گیا ہے اور جو مکانات منہدم کئے جارہے ہیں ان کو ہرگز پریشان و فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ریونت ریڈی حکومت اُن کا خاص خیال رکھے گی اور اُن کو ڈبل بیڈ روم کے مکانات الاٹ کئے جائیں گے ۔ معاوضہ ادا کیا جائے گا یا ڈبل بیڈ روم کے گھروں کے ساتھ پیسوں کی بھی ادائیگی کی جائے گی ۔ حکومت کچھ ایسا قدم اٹھائے گی جس سے وہ بے حد خوش ہوجائیں گے اور چیف منسٹر کا شکریہ ادا کریں گے ۔ سرینواس ریڈی کی زیر قیادت وفد نے سیول میں میاپوریسورس ریکوری پلانٹ کی بھی معائنہ کیا ۔ جہاں پر کچرے سے برقی تیار کی جارہی ہے ۔ حکومت تلنگانہ اسی طرح حیدرآباد اور دیگر مقامات پر پلانٹ قائم کرے گی جہاں پر کچرے سے برقی کی پیداوار کی جائے گی ۔۔