پراجکٹ کے پہلے مرحلہ میں ملک پیٹ تا ہائی کورٹ موسیٰ ندی کی پٹی و علاقہ کا احاطہ
وزیراطلاعات پی سرینواس ریڈی کی زیرقیادت وفد نے سیؤل سے گزرنے والی ہان ندی کے پراجکٹ کا بھی معائنہ کیا
حیدرآباد ۔ 22؍ اکتوبر ( اسماعیل احمد سیؤل سے)۔ موسیٰ ندی کو عظیم الشان پیمانہ پر فروغ دینے اور موسیٰ ندی اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو پُرفضاء ،دلکش اور قدرتی حسن کی دولت سے مالا مال عالمی سیاحتی مرکز بنانے سے متعلق پُروقار پراجیکٹ کے کام کا عنقریب آغاز ہوگا اور پہلے مرحلہ میں حیدرآباد سے گزرنے والی اِس ندی کی ملک پیٹ تا ہائی کورٹ پٹی و علاقہ کا احاطہ کیا جائے گا، کیونکہ اِس علاقہ کے نزدیک 40 تاریخی یادگاریں ہیں،جن میںسالارجنگ میوزیم، ہائی کورٹ اور عثمانیہ دواخانہ بھی شامل ہے۔ علاوہ ازیں حیدرآباد کی نشانی و پہچان چارمینار بھی اِس کے قریب ہے۔ تلنگانہ میں برسراقتدار ریونت ریڈی زیرقیادت کانگریس حکومت نے آج اِس بات کا اعلان کیا اور پرنسپال سکریٹری محکمہ بلدی نظم ونسق داناکشور نے اِس بارے میں تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی اور آس پاس کے علاقوں کو فروغ دینے جیسے ہی منصوبہ تیار ہوجائے گا 4 تا6 ماہ کے اندر اس پراجیکٹ کاکام شروع کردیا جائے گا۔چیف منسٹر ریونت ریڈی کے ویژن کی روشنی میںموسیٰ ندی اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو فروغ دیا جارہا ہے اور اُسے بہت ہی اچھا معاشی زون او رلیزر ہب بنایا جارہا ہے جو حیدرآباد کے پرانے شہر اور نئے شہر کو مربوط کرے گا۔اس علاقہ میں جہاں پارکس بنائیں جائیں گے ، وہیں تجارتی مراکز قائم کئے جائیں گے ۔ بائیک کی راہداریوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور دوسرے ری کری ایشن سنٹرس وغیرہ کی تعمیر عمل میں لائی جائے گی۔موسیٰ ندی اور آس پاس کے علاقوں کو جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل سے گزرنے والی چنگ گیچن اسٹریم اسٹور یسن ندی پراجیکٹ کے طرز پر فروغ دیا جائے گا، جس کو جنوبی کوریا کے سب سے پُرکشش اور اہم ترین سیاحتی مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔موسیٰ ندی اور آس پاس کے علاقوں کو فروغ دینے قابل تحسین پراجیکٹ پر عمل کے سلسلہ میں جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل سے گزرنے والی ہان ندی جس کو ہان گانگ بھی کہا جاتا ہے، اِس کے طرز پر ریور پارکس ، واٹر اسپورٹس اور ٹورزم سنٹرس کو شامل کیا جائے گا۔پی سرینواس ریڈی کی زیرقیادت تلنگانہ کے عہدیداروں اور صحیفہ نگاروں کے وفد نے آج ہان ندی کا معائنہ کیا اور پراجیکٹ کا گہرائی سے جائزہ لیا۔ وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر ، رکن پارلیمنٹ سی کرن کمار ریڈی ، ارکان اسمبلی پرکاش گوڑ، کالے یادیا ، مال ریڈی رنگاریڈی، میئر حیدرآباد گدوال وجئے لکشمی ، ڈپٹی میئر سری لتااور دوسرے وفد میں شامل ہیں۔ سرینواس ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام خوش نصیب ہیں جن کو ریونت ریڈی جیسے چیف منسٹر ملے ہیں، جو اچھے چیف منسٹر اور ایڈمنسٹریٹر ہونے کے ساتھ ایک اچھے انسان ہیں اور عوام و بالخصوص غریبوں کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ ریونت ریڈی حکومت موسیٰ ندی کو فروغ دینے کے پراجیکٹ پر عمل کیلئے موسیٰ ندی کے آس پاس کے علاقوں میں جن افراد کے گھروں کو حیڈرا کارروائی کے ذریعہ منہدم کردیا گیا اور منہدم کرچکی ہے اُن کو ڈبل بیڈروم گھر فراہم کئے جائیں گے۔ علاوہ ازیں آوٹررنگ روڈ کے نزدیک اراضی کا پلاٹ دیاجائیگا۔سرینواس ریڈی نے صحیفہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کئی دہوں سے موسیٰ ندی کو فروغ دینے کی باتیں کی جارہی ہیں مگر کسی حکومت نے موسیٰ ندی اور آس پاس کے علاقوں کو فروغ دینے قدم نہیں اٹھایا ۔ اب ریونت ریڈی حکومت ایسا کررہی ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔پونم پربھاکر نے بتایا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی غریبوں کے ہمدرد ہیں اور وہ اُن کیلئے بہت اچھے باز آبادکاری پراجکٹ کیلئے تیار ہیں۔ وہ جو وعدے کرتے ہیں اُن کو ضرور نبھاتے ہیں۔ کرن کمار ریڈی کی زیر قیادت وفد نے جس میں میئر حیدرآباد گدوال وجئے لکشمی بھی شامل تھیں ہان ندی کے نظم ونسق سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں سے ملاقات کی اور اُن سے اِس ندی کے پراجکٹ پر سیر حاصل گفتگو کی۔ ڈپٹی میئرسیؤل جو ینگ ٹی بھی اِس موقع پر موجود تھے۔