حیدرآباد ۔ 21 اکٹوبر (سیاست نیوز) ماحولیات کے تحفظ کیلئے سرگرم جہدکار نے موسیٰ ندی اور ریاست میں دیگر ذخائر آب کی بحالی کیلئے تلنگانہ ہائیکورٹ سے ایک یکولوجیکل ہیریٹیج بنچ قائم کرنے کی اپیل کی۔ ماحولیاتی جہدکار لبنیٰ ثروت نے ان کی اپیل میں ہائیکورٹ اور عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے روبرو واقع موسیٰ ندی کو کانکریٹ سرگرمیوں کا مقام بنانے کے مسئلہ کو نمایاں کیا۔ لبنیٰ ثروت کے مطابق اس کے عمل میں تیزی لانے کیلئے یکولوجیل ہیرٹیج پر روز بروز سماعت کیلئے ایک خصوصی بنچ قائم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جانب سے دائر کردہ سات مقدمات ہنوز ہائیکورٹ میں زیرالتواء ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر دن، ہر منٹ شہر میں ذخائر آب آلودگی اور ناجائز قبضوں کے باعث آلودگی کا شکار ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی اس میں کچرا ڈالنے اور ناجائز قبضوں کی وجہ آلودہ ہورہی ہے۔ ان کی اپیل میں ثروت نے کہا کہ ندی کے اندر ناجائز قبضوں کے تدارک کیلئے موسیٰ ندی کے کنارے پر عوامی بہبود کے اداروں کی تعمیرات کا مقصد ہی فوت ہوگیا ہے کیونکہ خود ریاستی حکومت ہی ندی کے اندر زمین تیار کررہی ہے۔ تلنگانہ اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ کے ڈیٹا کے مطابق گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) حدود میں 185 جھیلیں ہیں اور 2023ء میں قبل ازیں 28 کے مقابل 33 جھیلیں خشک ہوگئی ہیں۔