موسیٰ ندی کی صفائی کیلئے عصری ٹریٹمنٹ پلانٹ کی ضرورت

   

Ferty9 Clinic

رکن پارلیمنٹ وینکٹ ریڈی کی مرکزی وزیرسے نمائندگی،آبی اور فضائی آلودگی کی شکایت
حیدرآباد۔9 ۔ جولائی (سیاست نیوز) کانگریس رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے مرکزی مملکت وزیر شہری ترقیات و ہاؤزنگ ہرپریت سنگھ پوری سے ملاقات کرتے ہوئے موسیٰ ندی کی صفائی کیلئے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کے قیام کی درخواست کی ۔ اس کے علاوہ انہوں نے رنگا ریڈی ، یادادری ، بھونگیر اور جنگاؤں میں پرائم منسٹر آواس یوجنا کے تحت غریبوں کو مکانات کی فراہمی کے لئے نمائندگی کی ۔ مرکزی وزیر کو حوالہ کردہ مکتوب میں کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہا کہ موسیٰ ندی کی عدم صفائی کے نتیجہ میں پینے کا پانی اور فضاء آلودہ ہوچکی ہے۔ عوام جو غذا استعمال کر رہے ہیں، وہ آلودگی سے متاثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی حیدرآباد کی اہم ندی ہے جو دریائے کرشنا میں ضم ہوتی ہے۔ موسیٰ ندی بھونگیر لوک سبھا حلقہ کے 70 فیصد علاقوں کا احاطہ کرتی ہے۔ حیدرآباد ، رنگا ریڈی اور نلگنڈہ میں مختلف مقاصد کے لئے اس کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ ایک زمانہ وہ تھا جب اس ندی کے پانی کو مواضعات سربراہ کیا جاتا تھا ۔ اس پانی پر 1.5 لاکھ ایکر فصلیں اور لاکھوں افراد کا انحصار رہا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ ندی آلودگی کا شکار ہوگئی۔ حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ نے حال ہی میں تخمینہ کیا ہے کہ حیدرآباد میں روزانہ 1482 ایم ایل ڈی گھریلو سیوریج نکلتا ہے ۔ دیگر ذائع سے مزید 500 ایم ایل ڈی سیوریج نکل رہا ہے ۔ بورڈ کی جانب سے 20 سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ موجود ہیں جن کی صلاحیت 750 ایم ایل ڈی ہے۔ 1233 ایم ایل ڈی صفائی کے بغیر ہی موسیٰ ندی میں جارہا ہے جس میں کیمیکلس اور صنعتی فضلہ موجود ہیں۔ ان علاقوں میں پینے کا پانی اور غذا کے علاوہ ہوا آلودہ ہوچکی ہے۔ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے عوام کی صحت کے تحفظ کے لئے اس جانب فوری توجہ دینے اور 3,000 ایم ایل ڈی کی صلاحیت والے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کے قیام کی اپیل کی۔ ایک اور مکتوب میں وزیر امکنہ سے کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہا کہ رنگا ریڈی ، بھونگیر اور جنگاؤں کے شہری علاقوں میں بڑی تعداد میں غریب عوام بستے ہیں۔ کم آمدنی کے نتیجہ میں وہ مکانات کا کرایہ ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ لہذا بھونگیر ، آلیر ، جنگاؤں اور ابراہیم پٹنم ٹاؤنس میں پرائم منسٹر آواس یوجنا کے تحت فی کس 2000 مکانات منظور کئے جائیں۔