موسیٰ ندی کی صفائی کے لیے حکومت میں قوت ارادی کا فقدان : ہائی کورٹ

   

ندی سے گندگی اور آلودگی دور کرنے چار ہفتوں کے اندر ایکشن پلان بنانے کی ہدایت
حیدرآباد ۔ 3 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : موسیٰ ندی کی ابتر حالت کا سخت نوٹ لیتے ہوئے تلنگانہ ہائی کورٹ نے پیر کو ریاستی حکومت سے کہا کہ موسیٰ ندی میں پائی جانے والی آلودگی اور گندگی کو دور کرتے ہوئے اسے صاف بنانے کے لیے چار ہفتوں کے اندر ایک ایکشن پلان شروع کیا جائے ۔ ہائی کورٹ نے حکومت پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں موسیٰ ندی کو صاف کرنے کے لیے قوت ارادی کا فقدان ہے ۔ عدالت نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا ہے ۔ حکومت تلنگانہ موسیٰ ندی کو کیسے بحال نہیں کر پارہی ہے جب کہ گجرات اور راجستھان کی حکومتوں نے سابرمتی اور دراوئیاوتی کی عظمت رفتہ کو بحال کیا ہے ۔ ’ آپ (حکومت ) ہائی کورٹ کے سامنے سیدھے جانب سے بہنے والی موسیٰ ندی کی حالت دیکھیں یہ مچھروں کی افزائش کی جگہ بن گئی ہے ۔ اس کی آلودگی سے ہماری صحت کو ہونے والے نقصان کا اندازہ صرف خدا کو ہے ‘ ۔ چیف جسٹس چوہان اور جسٹس اے ابھیشک ریڈی پر مشتمل ہائی کورٹ کی ایک بنچ نے مفاد عامہ کی دو درخواستوں کی سماعت کی ۔ ایک جی رام ناتھ کروناکر نے داخل کیا اور دوسری کو خود عدالت نے موسیٰ ندی کی خستہ حالت پر میڈیا رپورٹس کے بعد شروع کیا ہے اور فوری ایکشن پلان پر زور دیا ۔ یہ کہتے ہوئے کہ موسیٰ ندی کو بچانے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جارہا ہے ۔ اس بنچ نے کہا کہ جب راجستھان کی حکومت نے جے پور میں آلودگی بھری ندی کو صاف کرتے ہوئے اس کی عظمت رفتہ کو بحال کیا اور گجرات حکومت نے احمد آباد میں سابرمتی کو صاف کیا تو پھر حکومت تلنگانہ موسیٰ ندی کے لیے ایسا کیوں نہیں کرسکتی ۔۔