موسیٰ ندی کی عظمت رفتہ کی بحالی

   

Ferty9 Clinic

شاندار تاریخ اور روایتوں کا تحفظ

محمد ریحان
ایک ایسے وقت جبکہ دنیا تقسیم ، اختلافات اور گھٹتی ہمدردی سے متعلق سرخیوں سے بھری پڑی ہے، ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے ، ہر کسی کو صرف اور صرف اپنے مفادات کی فکر لاحق ہے لیکن تلنگانہ نے ان حالات میں ایک مختلف زبان میں مخاطب کرنا پسند کیا۔ وہ بھی لمس مسیحائی اور ہم آہنگی کی زبان میں چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کا تاریخی موسیٰ ندی کی عظمت رفتہ کی بحالی سے متعلق فیصلہ عالمی بد اعتمادی اور مایوسی کے ماحول میں ایک طاقتور و متبادل بیانیہ پیش کرتا ہے ۔ یہ فیصلہ صرف ماحولیاتی بحالی تک محدود نہیں ہے بلکہ ایک گہرے سیاسی و اخلاقی اقدار اور بصیرت کی عکاسی کرتا ہے ۔ ایک ایسی ندی کی طرف متوجہ کرواتا ہے جو کبھی حیدرآبادی تہذیب کو سہارا دیتی تھی ۔ مسٹر ریونت ریڈی ہماری سوسائٹی کو یہ یاد دہانی کرواتے ہیں کہ ترقیاتی عمل کی شروعات اس شاہکار کی مرمت سے ہونا چاہئے جسے ہم نے زوال کے حوالے کردیا۔ صدیوں سے رود موسیٰ محض پانی نہیں بہا رہی تھی، خشک زمین کو سیراب نہیں کر رہی تھی بلکہ وہ حسین بلکہ سنہری یادوں ، تہذیب و ثقافت اور ان کی بقاء کی امین تھی لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ موسیٰ ندی کو غفلت نے شہری بے حسی کی ایک علامت میں تبدیل کردیا۔ ایسے میں چیف منسٹر ریونت ریڈی کی مداخلت اسی کہانی اور مایوس کن حالات بدلنے کی ایک کوشش ہے ۔ موسیٰ ندی کی عظمت رفتہ کی بحالی کا مجوزہ پراجکٹ صاف و شفاف پانیوں ، سرسبز و شاداب آبی کناروں اور درخشاں عوامی مقامات کا تصور پیش کرتا ہے مگر اس کی اصل خواہش بنیادی سہولتوں سے ماورا ہے ۔ یہ Nature یا فطری حسن کے وقار اور اس کی حرمت واپس لانے اور حکمرانی کو ذمہ داری سے جوڑنے کی بات ہے ۔ اس کے ذریعہ پاسداری ، صحت عامہ اور طویل مدتی منصوبہ بندی کو قلیل مدتی سیاست پر فوقیت دی جارہی ہے جو اس قیادت کے اسلوب کی نشاندہی کرتا ہے جو نمود و نمائش کی بجائے دور اندیشی اور غیر معمولی بصیرت پر مبنی ہے ۔ جب ہم موسیٰ ندی کی عظمت رفتہ کی بحالی سے متعلق غور کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ موسیٰ ندی کی بحالی کو جو چیز منفرد بناتی ہے ، وہ اس کا سماجی اور ثقافتی تصور ہے ۔ موسیٰ ندی کے کنارے کو ایک مشترکہ عوامی مقام کے طور پر دیکھا جارہا ہے جہاں منادر ، مساجد ، گرجا گھر اور گردوارے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آزو بازو مسابقتی شناختوں کے طور پر اپنی بقاء کو یقینی بنائے ہوئے ہیں۔ باالفاظ دیگر عقیدوں کے اجتماعی اظہار کی حیثیت سے لوگوں کو دعوت نظارہ دے رہے ہیں ۔ موسیٰ ندی کی عظمت رفتہ بحال کرنے سے متعلق حکومت تلنگانہ کا پراجکٹ بڑی خاموشی سے خود ہندوستان کے بنیادی وعدہ کا احیاء کرتا ہے ۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی ، ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور پنڈت جواہر لال نہرو کے پیش کردہ نظریات ، کثرت میں وحدت صبر و تحمل کو طاقت سمجھنا اور شمولیت کو انصاف تسلیم کیا ۔ آج موسیٰ ندی کے کنارے پر نئی معنویت اختیار کرتے نظر آتے ہیں ۔ جیسے جیسے حیدرآباد فرخندہ بنیاد ایک جدید عالمی شہر میں تبدیل ہوتا جارہا ہے ۔ بحال شدہ دریائے موسیٰ اس کا اخلاقی اور ماحولیاتی ستون بننے جارہا ہے ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی قیادت میں تلنگانہ کی ترقی اقتصادی اشاریوں سے نمایاں ہوتی ہے مگر یہ اقدام اس سے بھی گہری بات کی علامت ہے ۔ ایک سماجی ارتقاء بہ یک وقت یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ حقیقی ترقی ان ہی معاشروں کا مقدر بنتی ہے جو کثرت میں وحدت یا تنوع کا احترام کرتے ہیں ۔ فطری حسن کا تحفظ کرتے ہیں اور مستقبل میں اجتماعی یا مشترکہ سرمایہ مشغول کرتی ہیں۔ موسیٰ ندی کی عظمت رفتہ کی بحالی صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ہماری شاندار تاریخ اور روایتوں سے کیا گیا وعدہ اور آنے والی نسلوں کیلئے ایک خاکہ ہے۔ بہرحال قلب حیدرآباد سے تجدید کا ایک دریا بہنے کو تیار ہے اور اپنے ساتھ حکمرانی کا وہ تصور لئے ہوئے جس کی ہمارے ملک و قوم کو اور شائد سارے عالم کو اس وقت شدید ضرورت ہے۔