نومبر کے پہلے ہفتہ میں بھومی پوجا کے ساتھ کاموں کا آغاز، میڈیا نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت
حیدرآباد۔29۔اکٹوبر(سیاست نیوز) موسیٰ ندی کے احیاء کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی ‘حکومت تلنگانہ اس پراجکٹ کی تکمیل کو یقینی بنائے گی اور پہلے مرحلہ میں 21کیلو میٹر موسیٰ ندی کے احیاء کے اقدامات کئے جائیں گے۔ موسیٰ ندی کے احیاء کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے نومبر کے پہلے ہفتہ میں ’’بھومی پوجا‘‘ منعقد کی جائے گی اور کاموں کا آغاز کردیا جائے گا۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران یہ بات کہی ۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے موسیٰ ندی کے احیاء کے پراجکٹ کو شروع کئے جانے پر مختلف گوشوں سے اعتراضات کئے جا رہے ہیں لیکن کسی میں اتنی جرأت نہیں ہے کہ وہ اس پراجکٹ کو روک سکیں۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ موسیٰ ندی کے احیاء کے پراجکٹ کی تفصیلی پراجکٹ رپورٹ اور ڈیزائن اندرون ایک ماہ موصول ہوجائے گا اور اس کے لئے حکومت نے 141کروڑ روپئے جاری کئے ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ابتدائی مرحلہ میں حمایت ساگر سے باپو گھاٹ تک موسیٰ ندی کے احیاء کے پراجکٹ پرعمل کیا جائے گا اور اندرون 15یوم سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تعمیر کے لئے ٹنڈر طلب کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے تیار کردہ منصوبہ کے مطابق باپو گھاٹ پر حکومت کی جانب سے تیار کئے گئے منصوبہ کے مطابق ’’گاندھی جی ‘‘ کا قد آور مجسمہ نصب کیا جائے گا اور وہیں پر گاندھی کے نظریات پر مشتمل عالمی معیار کا ادارہ قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ موسیٰ ندی کے احیاء اور اس کی ترقی کے لئے ماحولیات دوست اور ویجیٹیرین طرز کو اختیار کیا جائے گاعلاوہ ازیں تفریحی مراکز‘نیچر کیور سنٹر کے علاوہ دیگر مراکز کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ چیف منسٹر نے اس غیر رسمی بات چیت کے دوران کہا کہ ریاستی حکومت نے موسیٰ ندی کے احیاء کے لئے محکمہ دفاع کی اراضیات کے حصول کے بھی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے تاکہ موسیٰ ندی سے متصل اراضیات کے حصول کے ذریعہ موسیٰ ندی کے احیاء اور ترقی دینے کے پراجکٹ کو مکمل کیا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ باپو گھاٹ کے قریب نئے برجس کی تعمیر کی منصوبہ بندی کی جار ہی ہے۔ چیف منسٹر نے موسیٰ ندی پراجکٹ کے متعلق کہا کہ عثمان ساگر اور حمایت ساگر تا باپوگھاٹ پہلے مرحلہ کے احیاء پراجکٹ کو جلد سے جلد مکمل کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے خواہ کسی بھی گوشہ سے اس پراجکٹ کی کتنی ہی مخالفت کیوں نہ کی جائے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت نے موسیٰ ندی کے طاس سے متصل عالمی معیار کی یونیورسٹی کے قیام کا منصوبہ تیار کیاہے۔انہو ںنے بتایا کہ موسیٰ ندی میں پانی کے بہاؤ کو بہتر بنائے رکھنے کے لئے گوداوری کا پانی ملنا ساگر کے ذریعہ عثمان ساگر پہنچایا جائے گا اور اس پانی کے موسیٰ ندی میں بہاؤ کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ 7ہزار کروڑ کی لاگت سے عثمان ساگر تک پانی پہنچانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔چیف منسٹر نے کہا کہ موسیٰ ندی سے متصل بازاروں کو شام 7 بجے تا صبح 7بجے تک کے لئے کھلا رکھنے کی منصوبہ بندی کی جائے گی تاکہ موسیٰ ندی کے احیاء کے بعد اس علاقہ میں شروع کئے جانے والے تجارتی مراکز کو فروغ دیا جاسکے۔انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین بالخصوص سابق ریاستی وزراء ٹی ہریش راؤ ‘ کے ٹی راما راؤ کے علاوہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ ایٹالہ راجندر کو مشورہ دیا کہ وہ انہیں یا ڈپٹی چیف منسٹر یا پھر چیف سیکریٹری حکومت تلنگانہ کو موسیٰ ندی کے احیاء کے پراجکٹ کے متعلق وہ کیا چاہتے ہیں اس سے واقف کروائیں۔انہو ںنے بتایا کہ وہ منصوبہ تیار کر رہے ہیں اس کے متعلق وڈا پلی تا وقارآباد پد یاترا منعقد کرتے ہوئے عوام سے ملاقات کریں گے اور اپنے منصوبہ سے واقف کروائیں گے ۔چیف منسٹر نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ موسیٰ ندی کے طاس میں رہنے والے حکومت کے منصوبہ کو قبول کریں گے۔ اے ریونت ریڈی نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے جلد ہی موسیٰ ندی احیاء کے پراجکٹ پر کل جماعتی اجلاس طلب کرتے ہوئے اپوزیشن قائدین سے تبادلہ خیال کیا جائے گا اور ان کے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت موسیٰ ندی کے احیاء کے پراجکٹ میں متاثر ہونے والوںکی باز آبادکاری کے اقدامات کو بھی یقینی بنا رہی ہے۔انہو ںنے اس غیر رسمی ملاقات کے دوران جنواڑہ میں پولیس کے چھاپہ پر بی آر ایس قائدین کے ’دیوالی پارٹی‘ کے دعوؤں کو مسترد کیا اور طنز کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیوں کے ٹی آر کے برادر نسبتی ضمانت قبل از گرفتاری کے لئے عدالت سے رجوع ہوئے ہیں۔ 3