ندی کی خوبصورتی کو بحال کرنے اقدامات، شہر کو عالمی سطح کے معیار پر لانے کا عزم، اپوزیشن کی ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ، چیف منسٹر ریونت ریڈی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔17۔اکٹوبر(سیاست نیوز) موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کا پراجکٹ ریاست کے 4کروڑ عوام کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے اور اس پراجکٹ کے متعلق اپوزیشن عوام کو گمراہ کررہی ہے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے آج پریس کانفرنس کے دوران موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ کے سلسلہ میں پاؤر پوائنٹ پریزینٹیشن ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی موجودگی میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تلنگانہ موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے سلسلہ میں جو اقدامات کر رہی ہے وہ موسیٰ ندی کے طاس میں رہنے والے مکینوں کی زندگیوں میں بھی سدھار لانے کے اقدامات کا حصہ ہے۔ریونت ریڈی نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے گذشتہ 10 ماہ سے اس پراجکٹ کا جائزہ لیا جا رہاہے اور 33ٹیمیں موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے سلسلہ میں مختلف زاویوں سے اس پراجکٹ کو بہتر بنانے کے سلسلہ میں جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ موسیٰ ندی کے طاس میں جملہ 1600 خاندان ہیں جو انتہائی ابتر حالت میں زندگی گذار رہے ہیں اور پراجکٹ کے نتیجہ میں ان کے مکانات کا تخلیہ کرواتے ہوئے انہیں ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی فراہمی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت کے عہدیداروں کی ٹیموں نے ان مکینوں سے بات چیت بھی مکمل کرلی ہے لیکن اپوزیشن جماعت کے قائدین جن کے ذہنوں میں موسیٰ ندی سے زیادہ گندگی بھری ہوئی ہے وہ عوام کو اکساتے ہوئے ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت نے شہر حیدرآبادوتلنگانہ کی ترقی کے لئے موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کی منصوبہ بندی کی ہے ۔ انہو ںنے واضح کیا کہ ہندستان میں کسی بھی ریاست کا دارالحکومت ایسا نہیں ہے جہاں شہر کے بیچ ندی بہتی ہے اس کا فائدہ حاصل کرتے ہوئے اس پراجکٹ کو مکمل کیا جاسکتا ہے اور اسے بہترین سیاحتی مرکز کے طور پر فروغ دینے کے اقدامات کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ انہیں جواں سال عمر میں ہی سب کچھ مل چکا ہے اور اب انہیں مزید کسی چیز کی تمنا نہیں ہے لیکن وہ ریاست اور شہر کی ترقی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔مسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ جن لوگوں کو عوام نے اقتدار سے محروم کیا ہے وہ لوگ عوام سے موسیٰ ندی کی اطراف کے علاقوں کی ترقی میں رخنہ پیدا کرتے ہوئے عوام کی ترقی کو روکنا چاہتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں اس پراجکٹ کی تکمیل کی صورت میں کئی سرکردہ سیاحتی کمپنیوں کی آمد متوقع ہے۔چیف منسٹر نے بتایا کہ حکومت نے موسیٰ ندی کے طاس سے جن خاندانوں کو منتقل کیا جا رہاہے ان کی مکمل بازآبادکاری کو یقینی بنانے کے عہد کی پابند ہے۔انہوں نے بتایا کہ عہدیداروں کی جانب سے متاثرہ خاندانوں سے مذاکرات جاری ہیں اور لوگ اپنی مرضی سے تخلیہ کے لئے آمادہ ہورہے ہیں اس کے باوجود اپوزیشن عوام کو اکسانے کی کوشش میں مصروف ہے۔انہوں نے موسیٰ ندی پراجکٹ کے متعلق منفی اور جھوٹ پر مبنی پروپگنڈہ کا اپوزیشن پر الزام عائد کرتے ہوئے شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ریاست کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے کو قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا۔چیف منسٹر نے کہا کہ اپوزیشن یوٹیوب چیانلس کے استعمال کے ذریعہ حکومت کے خلاف پروپگنڈہ کر رہی ہے جبکہ اس پراجکٹ کے ذریعہ حکومت نے شہر کو ترقی دینے کے علاوہ نوجوانوں کو بہتر ملازمتوں کی فراہمی کے مواقع پیدا کرنے اور سیاحتی فروغ کے اقدامات کی منصوبہ بندی کی ہوئی ہے۔مسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ جن 33 ٹیموں نے موسیٰ ندی پراجکٹ کے سلسلہ میں دورہ کرتے ہوئے عوام سے ملاقاتیں کی ہیں ان کی جانب سے دی گئی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ موسیٰ ندی کے طاس میں زندگی گذار رہے ہیں وہ انتہائی ابتر حالت میں ہیں ان کی زندگیوں میں سدھار لانے کے لئے انہیں اس ندی کے طاس سے منتقل کیا جانا ناگزیر ہے اسی لئے حکومت کی جانب سے انہیں فوری طور پر ڈبل بیڈ روم مکانات میں منتقل کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔انہو ںنے بتایا کہ ریاستی حکومت شہر حیدرآباد کو عالمی سطح کے شہروں سے مقابلہ کے لئے تیار کر رہی ہے اور اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ اس پراجکٹ کے ذریعہ شہر حیدرآباد کو دنیا کے ان شہروں کی صف میں لا کھڑا کیا جائے جہاں سیاحتی ترقی ہوئی ہے اور لوگ بغرض سیاحت ان شہروں کو پہنچتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے موسیٰ ندی کو خوبصورت بنائے جانے کی کوشش نہیں کی جار ہی ہے بلکہ موسیٰ ندی کی خوبصورتی کو بحال کرتے ہوئے اسے ماحولیاتی آلودگی کے علاوہ دیگر آلودگی سے پاک بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور اس کوشش میں تمام کو ساتھ دینا چاہئے لیکن اپوزیشن اس مسئلہ پر سیاست کرتے ہوئے ترقی کو روکنے کی کوشش میں مصروف ہے۔3