موسی ریور فرنٹ پراجکٹ سے قبل متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری : سریدھر بابو

   

متاثرہ خاندان اپوزیشن کے بہکاوے میں نہ آئیں ، گریٹر حیدرآباد کی ترقی کیلئے 10 ہزار کروڑ بجٹ میں مختص
حیدرآباد ۔یکم۔نومبر (سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی ڈی سریدھر بابو نے کہا کہ موسی ریور فرنٹ پراجکٹ کی تکمیل کے بارے میں حکومت سنجیدہ ہے اور علاقہ کے متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری کے بعد پراجکٹ پر عمل کیا جائے گا۔ سریدھر بابو نے آج رنگا ریڈی ضلع کے بوڈ اپل میں مختلف ترقیاتی اسکیمات کا آغاز کیا ۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سریدھر بابو نے کہا کہ موسیٰ ندی کے حدود میں رہنے والے خاندانوں کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ حکومت متاثرہ خاندانوں کا ہر ممکن خیال کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی کے حدود میں بسنے والے خاندانوں کی نشاندہی کی جارہی ہے تاکہ انہیں ڈبل بیڈروم مکانات فراہم کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کو احتجاج کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور انہیں اپوزیشن کے بہکاوے میں ہرگز نہیں آنا چاہئے ۔ حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے اور ان کی بازآبادکاری کے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے ۔ سریدھر بابو نے واضح کیا کہ جبراً کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی اور متاثرین کو اعتماد میں لے کر پراجکٹ پر عمل ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ موسی ریور فرنٹ پراجکٹ کا مقصد حیدرآباد سے نلگنڈہ تک کے علاقوں کو صاف پینے کا پانی سربراہ کرنا ہے اور موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے ذریعہ اطراف کے علاقوں کے عوام کا معیار زندگی بہتر بنایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد کی ترقی کیلئے کانگریس حکومت نے بجٹ میں 10 ہزار کروڑ مختص کئے ہیں۔ گزشتہ دس برسوں میں بی آر ایس حکومت نے گریٹر حیدرآباد کی ترقی کو نظر انداز کردیا تھا ۔ سریدھر بابو نے 7 کروڑ روپئے مالیت کے مختلف ترقیاتی کاموں کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر گورنمنٹ وہپ مہیندر ریڈی ، مقامی رکن پارلیمنٹ ایٹالہ راجندر ، میئر اجئے یادو ، کانگریس کے انچارج اور سابق رکن اسمبلی سدھیر ریڈی موجود تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سریدھر بابو نے کہاکہ رنگا ریڈی ضلع کی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ انچارج وزیر کی حیثیت سے وہ علاقہ کے مسائل کا جائزہ لے رہے ہیں۔ سریدھر بابو نے کہا کہ بوڈ اپل اور دیگر علاقوں میں بنیادی سہولتوں کو بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیح دی ہے۔ 1