موقوفہ جائیدادوں کو بے ایمانوں سے بچانا مسلمانوں کا فرض

   

خطبہ جمعہ میں عوام سے مشن دستور و اوقاف بچاؤ سے جڑجانے کی اپیل کرنے آئمہ و خطیب صاحبان سے درخواست
اوقافی جائیدادوں کے لٹیروں کو کیفرکردار تک پہنچانے کا عزم : محمود پراچہ ایڈوکیٹ

اگر آپ موقوفہ جائیدادوں کے تحفظ و ملت اسلامیہ کی ترقی و خوشحالی کے خواہاں ہو تو دستور و موقوفہ املاک بچاؤمشن سے خود کو وابستہ کرسکتے ہیں اورذیل میں دیئے گئے QR Code کے ذریعہ اس مقدس مشن سے جڑ جاسکتے ہیں یا وقف جہد کار وقف نجات دہندہ ، وقف جانباز بن کر موقوفہ جائیدادوں کے تحفظ میں اپنا اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔

حیدرآباد ۔ یکم ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : سپریم کورٹ کے سینئیر وکیل اور دستور ، موقوفہ جائیدادوں و اراضیات کے تحفظ سے متعلق مشن کے کرتادھرتا محمود پراچہ نے تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کے آئمہ مساجد و خطیب صاحبان سے درد مندانہ اپیل کی کہ وہ موقوفہ جائیدادوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کریں ۔ محمود پراچہ ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ آئمہ مساجد و خطیب صاحبان معاشرہ میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں اگر وہ نماز جمعہ کے خطبات میں مسلمانوں سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ قیمتی اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے آگے آئیں اور مشن ، دستور و اوقاف بچاؤ میں شامل ہوجائیں تو ملت پر اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے ۔ واضح رہے کہ ساری دنیا میں سب سے زیادہ موقوفہ جائیدادیں سعودی عرب ، ترکی ، ملائیشیا میں نہیں بلکہ ہمارے وطن عزیز انڈیا میں ہیں لیکن حکومتیں ، وقف بورڈ ، وقف بورڈ کے صدور نشین ، کچھ ارکان اسمبلی ، ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ سرکاری محکمہ جات و بددیانت رشوت خور عہدیداروں کی ملی بھگت سے موقوفہ جائیدادوں کو بڑی بے دردی سے لوٹا جارہا ہے ۔ ان پر ناجائز قبضے کئے جارہے ہیں ۔ حیرت اس بات کی ہے کہ اس میں ’ نام ‘ کے مسلمانوں کی کثیر تعداد بھی شامل ہے جو ملت کی ہمدردی اس کی نمائدنگی کے دعوے کرتے ہوئے امانت میں خیانت کے مرتکب ہورہے ہیں ۔ اگر آئمہ مساجد و خطیب صاحبان ، خطبات جمعہ میں مسلمانوں کو موقوفہ جائیدادوں کے تحفظ کی جانب توجہ دلاتے ہیں ۔ ان میں احساس ذمہ داری پیدا کرتے ہیں تو ایک بہت بڑا صالح انقلاب برپا ہوسکتا ہے ۔ محمود پراچہ ایڈوکیٹ نے مزید کہا کہ اللہ کی امانت ان جائیدادوں کو بچانے ان کی بازیابی کے لیے وہ اپنی جان قربان کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے ۔ انہوں نے آئمہ مساجد و خطیب صاحبان سے درخواست کی کہ وہ ملت اسلامیہ کو مشن ، دستور و اوقاف بچاؤ سے جڑنے کی ترغیب دیں ۔ اس مشن سے جڑنے کے لیے QR کوڈ بھی دیا گیا ہے ۔ انہیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں اپنے گھر بیٹھے ہی موبائل فون کے ذریعہ اپنے نام درج کرواسکتے ہیں ۔ محمود پراچہ کے مطابق تلنگانہ میں چونکہ 10 لاکھ کروڑ روپئے مالیتی اوقافی جائیدادیں ہیں اس لیے تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ کے صدر نشین اور ارکان کا حقیقت میںمسلمان اور دیانتدار ہونا ضروری ہے ورنہ موقوفہ جائیدادوں کے لٹنے کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ مسلمان چاہیں تو حکومتوں اور حکمرانوں کو وقف بورڈس کے لیے محکمہ ہندو اوقاف کے مماثل علحدہ وقف کمشنریٹ بنانے کے لیے مجبور کرسکتے ہیں ۔ مسلمان حکومت پر موقوفہ اراضیات کے رجسٹریشن روکنے کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں ۔ وقف ٹریبونل کو ای کورٹ اپلی کیشنس سے مربوط کرواسکتے ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ وقف ریکارڈ کے ڈیجیٹلائزیشن کو یقینی بناسکتے ہیں اس کے علاوہ موقوفہ جائیدادوں کے کرایوں پر نظر ثانی بھی کراسکتے ہیں ۔۔