مولانا آزاد اُردو یونیورسٹی کی 50 ایکر اراضی پر حکومت کی نظر

   

Ferty9 Clinic

فیصلے سے دستبردار نہ ہونے پر طلبہ کے ساتھ ملکر احتجاجی مہم شروع کرنے ہریش راؤ کا انتباہ
حیدرآباد ۔ 7 جنوری ۔ ( سیاست نیوز)بی آر ایس کے رکن اسمبلی ٹی ہریش راؤ نے مولانا ابوالکلام آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی کی 50ایکر اراضی کو چھین لینے کے منصوبے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس فیصلے سے دستبرداری اختیار کرنے کا مطالبہ کیا بصورت دیگر حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کی طرز پر احتجاج کرنے کا انتباہ دیا ہے ۔ ہریش راؤ نے کہاکہ ریونت ریڈی کے زیرقیادت کانگریس حکومت گزشتہ دو سال سے یونیورسٹیز کے اراضیات کو نشانہ بنارہی ہے جس کی بی آر ایس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے ۔ انھوں نے کہاکہ حکومت کے اس فیصلے سے یونیورسٹیز میں جہاں تعلیم متاثر ہورہی ہے وہیں ریسرچ کے کام متاثر ہونے کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔ ہریش راؤ نے سوشیل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے پروفیسر جئے شنکر تلنگانہ زرعی یونیورسٹی ، کونڈہ لکشما باپوجی یونیورسٹی سے 100 ایکر سے زائد اراضی زبردستی حکومت نے چھین لی ہے ۔ اس کے بعد حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی (HCU) کی 400 ایکر اراضی پر حکومت کی نظر پڑی جس سے نہ صرف جنگلاتی اراضی کو نقصان ہوا ہے ساتھ جنگلی جانوروں کو بھی مشکلات سے دوچار ہونا پڑا ہے ۔ تازہ طورپر حکومت نے مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی ( مانو ) کی 50 ایکر اراضی ہڑپ لینے کی کوشش کررہی ہے ۔ حکومت کے یہ اقدامات یونیورسٹیز کو نقصان پہونچانے کا باعث بن رہے ہیں ۔ ہریش راؤ نے چیف منسٹر سے استفسار کیاکہ انھیں یونیورسٹیز کی تعلیم اور ریسرچ کے کاموں پر اعتراض کیوں ہیں۔ تعلیم ، اختراعات ، ماحولیاتی تحفظ کیلئے مختص کردہ اراضیات کیوں چھین لی جاری ہیں۔ بی آر ایس اس طرح کے اقدامات کو ہرگز قبول نہیں کریگی۔ طلبہ کے ساتھ ملکر بڑے پیمانے پر احتجاجی مہم شروع کریگی ۔ 2