حکومت کا اردو زبان اور اردو پڑھنے والے طلبہ کے ساتھ کھلواڑ : داسوجو شراون
حیدرآباد ۔ 8 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے ایم ایل سی داسوجو شراون نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی 50 ایکر اراضی چھین لینے کی کوشش کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس حکومت اردو زبان اور اردو پڑھنے والے طلبہ کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہے جس کی بی آر ایس پارٹی سخت مخالفت کرتی ہے ۔ اردو یونیورسٹی کو دی گئی نوٹس سے دستبردار ہوجانے اور اس یونیورسٹی کی ترقی کے لیے 1000 کروڑ روپئے مختص کرنے کا حکومت سے مطالبہ کرتی ہے ۔ داسوجو شراون نے آج تلنگانہ بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ کو ایسے چیف منسٹر کی ہرگز ضرورت نہیں ہے ۔ جو یونیورسٹیز کی اراضیات چھین کر رئیل اسٹیٹ کاروبار کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کانگریس حکومت مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ( مانو ) کی تقریبا 50 ایکر اراضی پر قبضہ کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ جب کہ ہم ایک انچ زمین حاصل کرنے کی بھی اجازت نہیں دینگے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ آئی ایس بی کی اراضیات کے تعلق سے بھی نوٹس جاری کی گئی ہے ۔ ڈاکٹر داسوجو شراون نے کہا کہ کیا یونیورسٹیز سے اراضیات چھین لینے کا مسئلہ کابینہ اجلاس میں زیر بحث آیا ؟ انہوں نے کانگریس سے یہ بھی دریافت کیا کہ جو پارٹی خود کو مسلمانوں کی حامی بتاتی ہے وہ اردو یونیورسٹی کی اراضیات کے مسئلہ پر کیا موقف رکھتی ہے ۔ کانگریس پارٹی اردو زبان کو فروغ دینے اور مسلمانوں کی ترقی و بہبود کے لیے بلند بانگ دعوے کرتی ہے ۔ مگر حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے ۔ کانگریس حکومت کے اس طرز عمل پر ساری مسلم کمیونٹی کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اردو یونیورسٹی کو دیا گیا نوٹس فوری طور پر واپس لیا جائے ۔ بی آر ایس کے ایم ایل سی نے واضح کیا کہ جس طرح بی آر ایس کانچہ گچی باولی کے اراضیات کے معاملے میں طلبہ کے ساتھ کھڑی تھی ۔ اس طرح وہ اردو یونیورسٹی کی اراضیات کے تحفظ کے لیے بھی پوری قوت کے ساتھ کھڑی رہے گی ۔ ڈاکٹر شراون نے اردو یونیورسٹی کی مجموعی ترقی کیلئے ایک ہزار کروڑ روپئے مختص کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔۔ 2
