انتہائی اہم ذمہ داریاں کنٹراکٹ یا عارضی عہدیداروں کو تفویض، جنسی ہراسانی، عارضی اور کنٹراکٹ کی اساس پر ملازمتوں کی فراہمی
حیدرآباد۔21۔جون(سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی بھی حکومت تلنگانہ کے محکمہ اقلیتی بہبود کی طرح کام کر رہی ہے جہاں انتہائی اہم ترین ذمہ داریاں بھی کنٹراکٹ یا عارضی طور پر خدمات انجام دینے والے عہدیداروں کو تفویض کی گئی ہیں ۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں تدریسی و غیر تدریسی عملہ کی منظورہ جائیدادوں پر تقررات کے سلسلہ میں طلب کردہ تفصیلات میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں غیر تدریسی عملہ کی جملہ 449 جائیدادیں منظورہ ہیں اور ان جائیدادوں میں 418 جائیدادوں پر تقررات کئے جاچکے ہیں اور محض31 جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ 418 جائیدادوں پرخدمات انجام دینے والے غیر تدریسی عملہ کے علاوہ 376 عہدوں پر کنٹراکٹ یا عارضی ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔قانون حق آگہی کے تحت حاصل کی گئی تفصیلات میں ہوئے انکشاف کے مطابق مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں گذشتہ 3 برسوں کے دوران محض 42 تقررات عمل میں لائے گئے ہیں جن میں سال 2024 میں 6 افراد کے تقرر کے علاوہ سال 2025 میں 23 تقررات اور جاریہ سال 2026کے دوران تاحال 13 تقررات شامل ہیں۔یونیورسٹی نے ’یوگانتر‘ کی جانب سے داخل کی گئی قانون حق آگہی کے تحت درخواست کے جواب میں دی گئی تفصیلات میں بتایا کہ یونیورسٹی کے کسی بھی شعبہ یا انتظامیہ میں کوئی ریکارڈ اسسٹنٹ موجود نہیں ہے کیونکہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی جانب سے اس عہدہ کی کوئی منظوری فراہم نہیں کی گئی ہے جو کہ باعث حیرت ہے۔ ملک میں چلائی جانے والی ’اردو‘ زبان کی واحد سرکردہ قومی یونیورسٹی میں مخلوعہ جائیدادوں پر عارضی اور کنٹراکٹ کے اساس پر تقررات کے ذریعہ کام چلائے جانے کے سلسلہ میں
ماہرین تعلیم کا کہناہے کہ اگر یہی صورتحال ہوتی ہے تو ایسی صورت میں یونیورسٹی میں بڑے پیمانے پر ہونے والی کوتاہیوں کے لئے ان کنٹراکٹ اساس پر خدمات انجام دینے والوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خدمات سے برطرف کردیا جائے گا اور کسی سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی ۔ بتایا جاتاہے کہ یونیورسٹی میں ملازمت کی فراہمی کے معاملہ میں جنسی ہراسانی کا ایک معاملہ بھی زیر تفتیش ہے اور اس معاملہ کی جانچ کرنے والی کمیٹی رپورٹ بھی پیش کردی ہے ۔ عارضی اور کنٹراکٹ اساس پر ملازمتوں کی فراہمی کے معاملہ میں اس طرح کی شکایات عام بات ہوتی ہیں اسی لئے کسی بھی جامعہ میں اس طرح کے تقررات سے اجتناب کرتے ہوئے منظورہ جائیدادوں پر تقررات کی راہ ہموار کی جانی چاہئے ۔ نیشنل اردو یونیورسٹی میں تقررات کے سلسلہ میں دریافت کئے جانے پر یونیورسٹی انتظامیہ نے جو جواب دیا ہے اس کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ تقررات کے معاملہ میں یونیورسٹی اکزیکٹیو کونسل کے رہنمایانہ خطوط کے مطابق خدمات انجام دے رہی ہے۔3