مرکزی حکومت کا انتقامی رویہ ، مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل کی عدم توجہ
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔یکم ۔جنوری ۔ حکومت ہند اردو زبان کو نشانہ بنانے پر اتر آئی ہے! مرکزی حکومت کی جانب سے مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں کی اجرائی میں کی جانے والی تاخیر سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ حکومت اردو زبان کو بھی نشانہ بنانے لگی ہے ۔ کشمیر سے دفعہ 370 کی تنسیخ کے بعد پیدا شدہ صورتحال کے دوران اس بات کا انکشاف کیا گیا تھا کہ کشمیر سے اردو زبان کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن اب اردو یونیورسٹی جو کہ قومی جامعہ ہے اس میں خدمات انجام دینے والوں کی تنخواہوں میں تاخیر کے ذریعہ انہیں ہراساں کیا جانے لگا ہے۔ یو جی سی کے عہدیداروں کا کہناہے کہ مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل کی جانب سے بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب تنخواہوں کی اجرائی میں تاخیر ہورہی ہے۔ وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے اس بات کی توثیق کی کہ گذشتہ 7 ماہ سے ملازمین کی تنخواہوں کی اجرائی میں تاخیر کا سامنا ہے اور اس سلسلہ میں مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل کو بھی متوجہ کیا جاچکا ہے لیکن اس کے باوجود ماہ ڈسمبر کی تنخواہ اب تک جاری نہیں کی گئی ہے اور اگر آئندہ ہفتہ تنخواہ کی اجرائی عمل میں لائی جاتی ہے تو بھی ایسی صورت میں ملازمین و عملہ کو 50 فیصد تنخواہ کی اجرائی ہی ممکن ہے۔ ڈاکٹر اسلم پرویز نے بتایا کہ یونیورسٹی کی تنخواہوں کاماہانہ بجٹ 8کروڑ روپئے ہے اور گذشتہ 7 ماہ سے 30تا40 فیصد کی تخفیف کے ساتھ بجٹ کی اجرائی عمل میں لائی جا رہی تھی اور اب تک جامعہ انتظامیہ نے اپنے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے تنخواہیں جاری کردی ہیں لیکن جامعہ کے پاس بھی کوئی وسائل نہیں ہیں کہ وہ ان کے ذریعہ تدریسی و غیر تدریسی عملہ کے علاوہ انتظامی عملہ کی تنخواہوں کی اجرائی کو یقینی بناسکے ۔ ڈاکٹر اسلم پرویز نے کہا کہ اگر آئندہ ہفتہ بجٹ کی اجرائی عمل میں لائی جاتی ہے تو اطلاعات کے مطابق 60 فیصد ہی بجٹ جاری کیا جائے گا
اور اس کے ذریعہ تمام ملازمین کو صرف 50 فیصد تنخواہ ہی ادا کی جاسکتی ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ سابق میں اس طرح کی کوئی تکالیف نہیں ہوا کرتی تھیں بلکہ سہ ماہی اساس پر بلوں کے ادخال کے ساتھ ہی پیشگی تنخواہوں کا بجٹ جاری کردیا جاتا تھا لیکن گذشتہ 7ماہ سے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی معاشی حالت انتہائی ابتر ہوچکی ہے۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ملک بھر میں واحد اردو یونیورسٹی ہے جہاں اردو داں طبقہ اعلی اور معیاری تعلیم حاصل کر رہا ہے لیکن موجودہ فسطائی حکومت کے دور میں نیشنل اردو یونیورسٹی لسانی تعصب کا شکار ہونے لگی ہے کیونکہ دیگر قومی یونیورسٹیوں کی حالت ایسی نہیں ہے اور نہ ہی کسی اور قومی یونیورسٹی کے بجٹ کو روکا جا رہاہے ۔ ماہرین کا کہناہے اگر کسی اور قومی یونیورسٹی کے بجٹ میں کمی کی جاتی ہے تو ایسی صور ت میں انہیں فرق نہیں پڑتا کیونکہ ان یونیورسٹیوں کے آمدنی کے دیگر ذرائع موجود ہیں اور ان کے ذریعہ وہ اپنے اخراجات کی پابجائی کرسکتی ہیں لیکن مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کو کوئی اور ذرائع آمدنی نہ ہونے کے سبب معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ جناب معین الدین صدر مولانا آزاد یونیورسٹی ایمپلائز اسوسیشن نے بتایا کہ یونیورسٹی میں خدمات انجام دینے والے تیسرے اور چوتھے درجہ کے ملازمین کی حالات انتہائی ابتر ہوتی جا رہی ہے کیونکہ گذشتہ ماہ تک بھی تنخواہیں تاخیر سے ہی سہی جاری کی جا رہی تھی لیکن ماہ ڈسمبر کی تنخواہوں کی عدم اجرائی اور جب اجرائی عمل میں لائی جائے گی وہ بھی نصف تنحواہ کی بات کہی جا رہی ہے جو کہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں تدریسی ‘ غیر تدریسی اور انتظامی عملہ کی جملہ تعداد 1300 سے زائد ہے اور مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل کے تحت یونیورسٹی خدمات انجام دیتی ہے‘ مرکزی حکومت کی جانب سے اگر واقعی لسانی تعصب کی بنیاد پر تنخواہوں کی اجرائی میں تاخیر اور ٹال مٹول سے کام لیا جا رہاہے کہ تو اردو داں طبقہ کے لئے یہ نوشتۂ دیوار ہے اور انہیں زبان کی ترقی ‘ حفاظت کے ساتھ ساتھ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی حفاظت کیلئے بھی سرگرم عمل ہونے کی ضرورت ہے۔