بین الاقوامی عربی سمینا ر،پروفیسر سید جہانگیر کو ’’حسان الدکن وجاحظ الدکن ‘‘کا خطاب
حیدرآباد 23؍ فروری ( پریس نوٹ ) مولانا ابوالکلام آزاد عصر ِ حاضر کی وہ عبقری شخصیت ہیں جن کے افکارِ عالیہ نے ہندوستان کی تقدیر کو بدلنے میں ناقابلِ فراموش رول ادا کیا۔ آج بھی مولانا آزاد کے نظریات پر عمل کیا جائے تو ہندوستان کو جنت نشان بنا یا جا سکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ آزاد ہندوستان کے قائدین نے مولانا کے نظریات کو فراموش کر دیا اس لئے آج ملک میں امن و یکجہتی کا ماحول نہیں پایا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار آج یوینورسٹی کالج آف ویمن کوٹھی میں دانشورانِ قوم اور ماہرین تعلیم نے شعبہ عربی یونیورسٹی کالج فار ویمن کوٹھی جامعہ عثمانیہ کے زیر اہتمام “مولانا ابوالکلام آزاد جدید ہندوستان کے معمار ” کے عنوان پر منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی سمینارکے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ پروفیسر حسنین اختر، دہلی یونیورسٹی نے اپنے کلیدی خطبہ میں کہا کہ مولانا آزاد نے انتہائی شدید ترین حالات میں انگریزوں سے نبردآزما ہوتے ہوئے ملک کو آزاد کرایا۔ مولانا نے اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ ہندوستانی قوم میں آزادی کا صور پھونک دیا جس کے نتیجہ میں تحریک آزادی میں ایک ولولہ پیدا ہوگیا۔ جناب ظہیر الدین علی خان، مینیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے مہمان اعزازی کی حیثیت سے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد کے پیام کو نوجوان نسل تک پہنچانا ہم سب کی ذ مہ داری ہے۔ ان کے افکار آفاقی نوعیت کے ہیں اور ہر دور میں مولانا کے افکار کی معنویت باقی رہے گی۔ مولانا آزاد ہندو۔ مسلم اتحاد کے علمبردار تھے۔ وہ سارے ہندوستانیوں میں بھائی چارہ پیدا کرنے کے لئے ہمیشہ کوشاں رہے۔ وہ ملک کا بٹوارا نہیں چاہتے تھے ۔ ملک کی تقسیم کو روکنے کے لئے انہوں نے پوری کوشش کی۔ کویت سے تشریف لائے ہوئے مہمان پروفیسر سید علی عد نان مصطفی الرفاعی نے عربی میں خطاب کرتے ہوئے مولانا آزاد کی شخصیت اور ان کی خدمات کو جامع انداز میں خراج تحسین پیش کر تے ہوئے کہا کہ ایسی شخصیتیں بار بار پیدا نہیں ہوتیں۔ اس کے لئے قوموں کو صدیوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ پروفیسر ایم۔ وجّولتا، پرنسپل یونیورسٹی کالج فار ویمن ، عثمانیہ یونیورسٹی نے صدارت کی۔ پروفیسر سید جہانگیر، ڈین برائے عرب اسٹڈیز و صدر شعبہ عربی ایفلو نے کہا کہ مولانا آزاد محض ایک سیاستدان نہیں تھے بلکہ وہ مفسّر قرآن اور بلندپایہ ادیب بھی تھے۔ انہوں نے البلاغ اور الہلال کے ذریعہ قوم کو جھنجھوڑنے کا فرض انجام دیا۔ انہوں نے طلباء و طالبات کو مشورہ دیا کہ وہ مسلم مجاہدین آزادی کے تاریخ کا مطالعہ کریں تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ ہمارے اسلاف نے اس ملک کی آزادی کے لئے کتنی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ اس موقع پر مسلم مجاہدین آزادی پر ایک یادگار مجّلہ کی رسم اجراء عمل میں آئی۔ پروفیسر سید جہانگیر کی غیر معمولی عربی خدمات پر انہیں سپاس نامہ پیش کرتے ہوئے موصوف کو “حسّان الدکن جاحظ الدکن”کے خطاب سے نوازا گیا۔ سمینار کا آغاز قرآ ن مجید کی تلاوت سے ہوا۔ ڈاکٹرسید شجاع الدین قادری عزیز، کوآرڈنیٹر سمینار نے خیرمقدم کرتے ہوئے سمینار کی غرض و غایت بیان کی۔ دوپہر میں پروفیسر سید جہانگیر کی صدارت میں ملک کی مختلف یونیوسٹیوں سے آئے ہوئے ماہرین تعلیم نے مقالے پیش کئے۔ مقالہ نگاروں میں حیدرآباد سے ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد کے علاوہ دیگر پروفیسرس بھی تھے۔کل بھی سمینار جاری رہے گا۔