مولانا ارشد مدنی ساتویں مرتبہ جمعیت علماء ہند کے صدرمنتخب

,

   

Ferty9 Clinic

کامیابی وکامرانی کیلئے تعلیم کو ہتھیاربنا نے مسلمانوں کو مشورہ

نئی دہلی: ملک کے موجودہ حالات، قانون وانتظام کی بد تر صورتحال اور مسلمانوں کی تعلیمی حالات پر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے جمعیت علماء ہندکے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے جمعیت کے تعلیمی وظائف کی رقم پچاس لاکھ سے بڑھاکر ایک کروڑ روپئے کردی۔ یہ اعلان انہوں نے جمعیت علماء ہند کے مجلس عاملہ کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ جمعیت کی جاری کردہ ریلیز کے مطابق مرکزی مجلس عاملہ نے ریاستی جمعیتوں کی مجلس عاملہ کی سفارشات کی بنیاد پر آئندہ میعادکی صدارت کے لئے مولانا ارشد مدنی کے نام کا اعلان کردیا۔مجلس عاملہ سے خطاب میں مولانا ارشدمدنی نے ملک کے موجودہ حالات میں قانون وانتظام کی بد تر صورتحال اور مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی پر گہری تشویش کا اظہارکیا اور اس کے لئے وظائف کی ضرورت و اہمیت پر روشنی ڈالی اورکہا کہ ہماری اس ادنیٰ سی کوشش سے بہت سے ایسے ذہین اور محنتی بچوں کا مستقبل کسی حدتک سنور سکتا ہے جنہیں اپنی مالی پریشانیوں کی وجہ سے اپنے تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں جس طرح کی مذہبی اور نظریاتی محاذ آرائی اب شروع ہوئی ہے اس کامقابلہ کسی ہتھیار یاٹکنالوجی سے نہیں کیا جاسکتا اس سے مقابلہ کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو اعلیٰ تعلیم سے مزین کرکے اس لائق بنادیں کہ وہ اپنے علم اور شعور کے ہتھیارسے اس نظریاتی جنگ میں مخالفین کوشکست سے دوچارکرکے کامیابی اورکامرانی کی وہ منزلیں سرکرلیں جن تک ہماری رسائی سیاسی طورپر محدود اور مشکل سے مشکل تربنادی گئی ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ آزادی کے بعد آنے والی تمام سرکاروں نے ایک طے شدہ پالیسی کے تحت مسلمانوں کو تعلیم کے میدان سے باہر کردیا، سچرکمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ مسلمان تعلیم میں دلتوں سے بھی پیچھے ہیں۔