مسلمانوں کو قریب کرنے سنگھ کارکنوں کو مشورہ، ملک کی تعمیر کیلئے اتحاد کی باتیں
نئی دہلی۔5 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر جمعیت العلماء ہند (ارشد گروپ) مولانا سید ارشد مدنی اور آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کی ملاقات پر مختلف حلقوں میں مختلف خیالات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ لیکن ایک بات ضرور ہے کہ مولانا ارشد مدنی سے ملاقات کے بعد موہن بھاگوت کے خیالات اور سوچنے کے انداز میں کچھ تبدیلی ضرور آئی ہے تب ہی تو انہوں نے کولکتہ میں آر ایس ایس ورکروں سے خطاب میں مشورہ دیا کہ وہ ملک کی تعمیر کے لیے اقلیتوں کو قریب کریں۔ انہوں نے سنگھ کے ورکروں پر اس بات کے لیے بھی زور دیا کہ وہ بلالحاظ مذہب و ملت تمام لوگوں کے ساتھ تعلقات پیدا کریں۔ آر ایس ایس کے ایک سینئر ورکر کے مطابق بھاگوت نے اپنے ورکروں سے کہا کہ ہندوستان صرف اسی وقت متحد رہ سکتا ہے جب ہم تمام میں قوم پرستی کا جذبہ پیدا ہو، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگ اپنے نظریات عقائد اور مذہب پر چل سکتے ہیں لیکن قوم پرستی ہی اتحاد کا واحد طریقہ ہے۔ آر ایس ایس کے اس ورکر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ورکروں کو چاہئے کہ وہ تمام لوگوں بشمول قوم پرستی میں یقین رکھنے والے مسلمانوںکو قریب کریں۔ مسلم قوم پرستوں کے سوچنے کا انداز الگ ہے اور ہمارے سوچنے کا انداز جداگانہ ہے لیکن ہم تمام کو ملک کی فکر لاحق ہے۔
اس لیے اصل نکتہ یہ ہے کہ ملک کی تعمیر کے لیے تمام کو ایک چھت تلے ہی لایا جائے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ 30 اگست کو نئی دہلی میں مولانا ارشد مدنی اور موہن بھاگوت کی ملاقات ہوئی جس میں دونوں رہنمائوں نے ہندو راشٹرا سے متعلق نظریہ، اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک، ہجومی تشدد جیسے مسائل پر تبادلہ خیال ہوا۔ مختلف میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا ارشد مدنی نے موہن بھاگوت کو سمجھدار اور عقلمند شخص قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاشبہ آر ایس ایس ہندوستان کی سب سے بڑی تنظیم ہے۔ مولانا ارشد مدنی کے مطابق انہوں نے آر ایس ایس سربرا پر واضح کیا کہ اقلیت اور اکثریت کو اپنے مذہبی معاملات میں مکمل آزادی ہونی چاہئے۔ جس پر آر ایس ایس سربراہ کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں جو نظام ہوگا اس میں ایسی کوئی بات نہیں چاہتے۔ مولانا ارشد مدنی کا اس ملاقات کے بعد کہنا تھا کہ آر ایس ایس ہندوراشٹرا کے نظریہ سے دور ہوسکتی ہے۔ انہوں نے موہن بھاگوت سے ملاقات میں آر ایس ایس کے ان عناصر کی جانب توجہ دلائی جنہوں نے مسلمانوں اور سکیولر ازم کے خلاف لکھا ہے۔ جس پر بھاگوت کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس ان عناصر کے نظریات کی پابند نہیں۔ دونوں نے ملک میں امن و امان کی برقراری کے موضوع پر بھی بات کی۔ تاہم مولانا مدنی نے بھاگوت کے ساتھ طلاق ثلاثہ یکساں سیول کوڈ جیسے مسائل پر بات نہیں کی تاہم یہ کہا کہ آنے والے دنوں میں موہن بھاگوت سے بات چیت ضرور ہوگی۔ آپ کو بتادیں کہ جمعیت العلمائے ہند کا قیام 1919ء میں عمل میں آیا جبکہ آر ایس ایس 27 ستمبر 1925ء کو قائم ہوئی۔ جنگ آزادی میں جمعیت العلمائے ہند نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اس کے برعکس آر ایس ایس نے تحریک آزادی سے خود کو دور رکھا۔ بہرحال دیڑھ گھنٹہ بات چیت میں مولانا ارشد مدنی اور موہن بھاگوت نے کئی ایک مسائل پر مکمل گفتگو کی۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ اس بات چیت کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔