مولانا ارشد مدنی نے مسلم طالب علم محمد التمش کو گود لے لیا

   

نئی دہلی : مسلم طالب علم محمد التمش کو جمعیت علماء ہند (مولانا ارشد مدنی) نے گود لے لیا۔ اترپردیش کے مظفر نگر میں ایک خاتون اسکول ٹیچر کی ویڈیو وائرل ہوگئی جس میں وہ کلاس روم میں موجود طلبا کو اپنے ہم جماعت مسلم طالب علم کو زور سے تھپڑ مارنے کیلئے کہتی ہے۔ خاتون ٹیچر کی اس غیرانسانی اور متعصبان حرکت کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی جارہی ہے۔ ملک میں بھی سیاسی رہنماؤں کے علاوہ عام لوگوں کی جانب سے بھی غم و غصہ کا اظہار کیا جارہا ہے۔وہیں جمعیت علماء ہند نے ایک قدم آگے بڑھ کر مسلم طالب علم محمد التمش کی کفالت کی ذمہ داری لی ہے۔ جمعیت علماء ہند کے ایک وفد نے آج التمش کے گھر پہنچ کر ان کے والدین سے ملاقات کی اور 7 سالہ مسلم لڑکے کی زندگی بھر تعلیم کا مکمل خرچہ اٹھانے کا اعلان کیا۔مولانا مکرم علی قاسمی کنوینر مقامی جمعیت کے ساتھ آئے وفد نے جمعیت علماء ہند کی جانب سے محمد التمش کو گود لینے کا اعلان کیا اور ٹیچر کی حرکت کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ جمعیت علماء ہند کے وفد میں مقامی علمائے کرام و اراکین موجود تھے۔اترپردیش کے مظفرنگر کے نیہا پبلک اسکول میں یہ واقعہ پیش آیا جہاں ٹیچر نے مسلم لڑکے کو ہوم ورک نہ کرنے پر ہم جماعت لڑکوں کی جانب سے طمانچے رسید کرنے کیلئے کہا ۔ اس واقعہ کے وائرل ہونے کے بعد ہر گوشہ سے غم و غصہ کا اظہار کیا گیا ہے۔