مولانا رابع حسنی ندوی نے مولانا سلمان ندوی کے بارے میں اپنی خاموشی توڑدی

,

   

* لکھنو : دارالعلوم ندوۃ العلماء میں مولانا سلمان ندوی کے بارے میں تنازعہ اور کشیدگی پیدا ہوجانے کے بعد ریکٹر ادارہ مولانا مولانا سید محمد سید رابع ندوی نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے بیان دیا ہے۔ اپنی مختصر جذبات سے مغلوب تقریر میں انہوں نے طلبہ سے منگل کے دن خطاب کیا۔ مولانا حسنی نے کہا کہ مولانا سلمان ندوی ان کے اپنے بچے جیسے ہیں، انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ ان کے بارے میں افواہوں کے باوجود ندوۃ کا انتظامیہ اس معاملہ کو اتنا سنگین نہیں سمجھتا کہ کسی کے خلاف کارروائی کرے۔ دوسری جانب مولانا سلمان ندوی نے بھی طلبہ سے خطاب کیا جس میں انہوں نے اپنے بے قصور ہونے کا ادعا کرتے ہوئے مسئلہ کے فوری حل پر زور دیا ۔ ان کی تقریر 40 منٹ تک جاری رہی جس میں انہوں نے طلبہ سے کہا کہ وہ مشتعل نہ ہوں۔ مولانا سلمان ندوی نے کہا کہ مولانا رابع حسنی ندوی ان کے ماموں ہیں اور کہا کہ وہ ان کا بے انتہا احترام کرتے ہیں۔

بابری مسجد پر سپریم کورٹ کا فیصلہ دونوں فریقین کو قبول کرنا چاہئے
ممبئی ۔ 16 ۔ ا کتوبر (سیاست ڈاٹ کام)مسلم مذہبی اسکالرس اور قائدین نے آج کہا کہ بابری مسجد کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کو دونوں فریقین کی جانب سے قبول کیا جانا چاہئے۔ اس تنازعہ کے دونوں فریقین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عدالت کا فیصلہ قبول کریں۔ مولانا محبوب دریا بادی جنرل سکریٹری آل انڈیا علماء کونسل نے کہا کہ ہم کو خوشی ہے کہ کیس کی سماعت مکمل ہوگئی ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ عدالت ثبوتوں کی بنیاد پر قطعی فیصلہ کرے ۔ مذہبی جذبات کی بنیاد پر فیصلہ نہ کرے۔ ہم شروع سے ہی یہ کہتے آرہے ہیں کہ عدالت کا جو بھی فیصلہ ہوگا ہم اس کو قبول کرلیں گے ۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ عدالت کے فیصلہ سے امن و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھیں۔