ممبئی 25 مارچ (ایجنسیز) مہا کمبھ میلے سے شہرت حاصل کرنے والی لڑکی مونالیسا بھوسلے کچھ عرصے سے تنازعات میں گھری ہوئی ہے۔ اس نے حال ہی میں اپنے مسلمان بوائے فرینڈ فرمان سے شادی کی، جس نے فلمساز سنوج مشرا کو ناراض کیا، جنہوں نے اسے اپنی فلم دی ڈائری آف منی پور میں بطور ہیروئن متعارف کیا۔ مونالیسا نے اب سنوج مشرا پر جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات لگا کر سنسنی پیدا کردی ہے۔ایک پریس کانفرنس میں مونالیسا نے سنوج مشرا پرکئی سنگین الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا، سنوج مشرا نے مجھے10 بار چھوا، جب میں نے اپنے گھر والوں کو بتایا کہ سنوج مشرا نے مجھے چھوا، تو انہوں نے میرا ساتھ نہیں دیا۔ میں جانتی ہوں کہ میرے ساتھ کیا ہوا اورکیا نہیں، مجھ پر ظلم ہوا اور میں صرف انصاف چاہتی ہوں، سنوج مشرا نے مجھے دو بارچھوا، تو میں نے اپنے گھر والوں کو بتایا، انہوں نے کہا، نہیں، نہیں، یہ آپ کی پہلی فلم ہے ، مونالیسا کے آنسو چھلک پڑے۔مونالیسا نے کہا کہ اگر فرمان نہ ہوتا تو ان کی اصل شناخت سامنے نہ آتی۔ وہ اس دن خودکشی کرنے والی تھی۔ فرمان نے اس کی حمایت کرتے ہوئے اسے کہا کہ وہ ایسا نہ کرے اور لڑنا سیکھے۔ اس نے اسے ایک نئی زندگی دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سنوج مشرا ان کے خاندان کو دھمکیاں دے رہے ہیں، دعویٰ کررہے ہیں کہ ان کی فلم 10 کروڑ روپے کی ہے، لیکن ان کی فلم 3 لاکھ روپے کی بھی نہیں ہے۔ مونالیسا نے سوال کیا کہ کیا سنوج مشرا نے ان کے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ کسی اور سے شادی نہیں کریں گی۔ اس نے کہا میں نے ان کی فلم مکمل کی، میں نے اپنا فرض پوراکیا۔ انہوں نے مزید کہا، اب وہ (سنوج مشرا) مونالیسا اور فرمان کو مارنا چاہتے ہیں، یہ سچ ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سنوج مشرا نے انہیں فلم میں کام کرنے کے لیے معاوضہ دیا تو کہاکہ سنوج مشرا 50 ہزار روپے ہنوزادا نہیں کیا، وہ فی الحال میرے خاندان کو دھمکیاں دے رہا ہے، اس نے انہیں کروڑ پتی بنانے کا وعدہ کیا، اس نے میرے خاندان کو پیسوں کا لالچ دے کر دباؤ میں رکھا۔ مونالیسا نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ دو فلمیں کر چکی ہیں اور دو یا تین مزید فلموں کے لیے بات کررہی ہیں۔