مٹن اور مچھلی کی قیمتوں میں حیدرآباد میں غیر معمولی اضافہ

   


خوردنی تیل اور دالوںکی قیمت کے بعد عوام پر زائد بوجھ، قیمتوں پر قابوپانے عہدیدار متحرک
حیدرآباد: حیدرآباد میں خوردنی تیل اور دالوں کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد مچھلی اور مٹن کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں اور یہ عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوچکے ہیں۔ عوام کورونا لاک ڈاؤن کے بعد سے مہنگائی میں مسلسل اضافہ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں دالوں ، خوردنی تیل اور مٹن کی قیمتوں میں اضافہ مزید معاشی بوجھ کا سبب بن رہا ہے۔ مٹن جو عام طور پر 500 روپئے فی کیلو فروخت کیا جاتا تھا ، وہ اب 800 روپئے فی کیلو ہوچکا ہے۔ حکومت کے احکامات کے مطابق مٹن کی قیمت کسی بھی صورت میں 700 روپئے سے تجاوز نہیں کرنی چاہئے ۔ برڈ فلو کے خطرہ کے پیش نظر عوام چکن کے استعمال سے پرہیز کر رہے ہیں جس کا فائدہ مٹن اور فش کے تاجر اٹھا رہے ہیں، جنہوں نے قیمتوں میں من مانی اضافہ کردیا ہے۔ بعض علاقوں میں مٹن فی کیلو 1000 روپئے میں فروخت ہورہا ہے ۔ اسی طرح مچھلی کی قیمتوں میں سابقہ قیمت سے تین گنا اضافہ کردیا گیا ۔ مچھلی کی تمام اقسام کی قیمتیں بڑھادی گئیں۔ رہوو اور سفید مچھلی جو عام طور پر 120 تا 150 روپئے فی کیلو فروخت کی جاتی ہے وہ اب 180 تا 220 روپئے فی کیلو فروخت کی جارہی ہے۔ مرل مچھلی 600 تا 700 روپئے فی کیلو فروخت کی جارہی ہے ۔ تہوار کے موقع پر قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا۔ حالیہ عرصہ تک ایک کیلو جھنگا 250 تا 350 روپئے میں فروخت کیا جاتا رہا لیکن اب اس کی قیمت 350 تا 450 روپئے کی گئی ہے۔ فیسٹول کے دوران گریٹر حیدرآباد کے حدود میں مٹن کی فروخت 100 ٹن سے تجاوز کر گئی جبکہ عام حالات میں روزانہ 60 تا 70 ٹن مٹن فروخت ہوتا ہے ۔ گزشتہ ہفتہ مٹن 170 ٹن کے نشانہ کو پار کرگیا۔ اسی دوران وزیر اینمل ہسبنڈری سرینواس یادو نے کہا کہ قیمتوں میں اضافہ پر قابو پانے کیلئے عہدیداروں کو متحرک کیا گیا ہے۔