کریم نگر میں ٹی پی سی سی کارگذار صدر پونم پربھاکر کی صحافیوں سے بات چیت
کریم نگر۔/26 ستمبر، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مڈ مانیر ذخیرہ آب کی گنجائش 25 ٹی ایم سی ہے تو کیا وجہ ہے کہ 15 ٹی ایم سی پانی مڈ مانیر میں آتے ہی آدھی رات کو 25 گیٹ اُٹھاتے ہوئے ایل ایم ڈی پراجکٹ میں پانی چھوڑا گیا ۔ اس کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹی پی سی سی کارگذار صدر پونم پربھاکر نے حکومت سے مطالبہ کیا۔ چہارشنببہ کو پونم پربھاکر کانگریس ریاستی ترجمان ایم ستیم ریاستی قائدین اے سرینواس اور دیگر قائدین کے ساتھ مانواڑی مڈ مانیر پراجکٹ کے باندھ کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ان کے ساتھ گئے مختلف اخبارات کے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایلم پلی پراجکٹ پوری طرح پانی سے بھرچکا ہے اور اوور فلو ہوکر پانی ضائع ہورہا ہے۔ پانی کو مڈمانیر میں کیوں منتقل نہیں کیا جارہا ہے واقف کروایا جائے کہ اس کی کیا وجوہات ہیں۔ اس کی تحقیقات کیلئے کانگریس کا وفد باندھ کس قدر مضبوط ہے اس کا جائزہ لینے کیلئے یہاں آیا ہے۔ یہاں آکر پتہ چلا بورڈال جاکر معائنہ کیا جارہا ہے۔ دراصل باندھ کی حالت مخدوش ہے۔ باندھ کا ایک کلو میٹر تک معائنہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ باندھ پر جگہ جگہ شگاف ہیں، اسے دوبارہ تعمیر کئے جانے کی ضرورت ہے پربھاکر نے مطالبہ کیا۔ تعمیر غیرمعیاری تھی اسی لئے صرف 15 ٹی ایم سی پانی جمع ہوتے ہی پورے 25 گیٹس اُٹھاکر پانی چھوڑا گا۔ انہوں نے کہا کہ کُل جماعتی اجلاس 30 اگسٹ کو وہاں کے رہائش پذیر عوام کی مہا سبھا کے روز ہی باندھ ٹوٹ جانے کے خدشے سے گھبراہٹ میں شگاف تقریباً ایک کلو میٹر تک پڑ جانے پر صرف 3 میٹر کی مرمت کرلی جاکر ریت اور مٹی بڑے بڑے پتھر ڈال کر غیر معیاری طور پر پانی کے لکیج کو بند کردیا گیا۔ صرف وقتی طور پر مرمت تھی۔ مڈ مانیر باندھ کے معیار کی جانچ کیلئے ریاستی سطح کے انجینئروں سے تحقیقات کروانی چاہیئے بصورت دیگر ہم عدالت سے رجوع ہوں گے۔ اگر باندھ معیاری ہونے کا دعویٰ صحیح ہے تو ڈیم میں25 ٹی ایم سی ذخیرہ اب رکھا جائے۔ درحقیقت ٹی آر ایس کے دور میں تعمیر کردہ سبھی پراجکٹس غیر معیاری ہیں۔ اس موقع پر ماٹواڑہ موضع کی عوام ڈیم کی نچلی سطح پر رہنے والوں نے کہا کہ ہمارے گھروں میں جھرے کی طرح پانی نکل رہا ہے۔ ہمارا یہاں رہنا مشکل ہوگیا ہے۔ اس میں بھی زیر آب آجانے والے مواضعات کی طرح معاوضہ دلوانے کی کوشش کی جائے۔ اس موقع پر متاثرہ مواضعات کے کنوینر رویندر، کانگریس قائدی کرشنا ریڈی، بی سرینواس، بی کنکیا درگا ریڈی اور دیگر موجود تھے۔
