مکانات اور فلیٹس کی چھتوں پر گانجہ کی کاشت

   

Ferty9 Clinic

بیرون ریاست کے کرایہ داروں پر سخت نظر رکھنے کی ضرورت
حیدرآباد۔4۔جنوری(سیاست نیوز) جرائم سے پاک معاشرہ کی تشکیل اور منشیات کی لعنت سے محفوظ حیدرآباد کے لئے لازمی ہے کہ شہر کے گلی کوچوں میں آباد غیر مقامی باشندوں پر گہری نظر رکھی جائے ۔کرایہ پر گھر یا فلیٹ حاصل کرتے ہوئے ان میں غیر قانونی و غیر اخلاقی سرگرمیاں انجام دینا شہرحیدرآباد کے پاش علاقوں میں کوئی نئی بات نہیں تھی لیکن اب گھریا فلیٹ کرایہ پر حاصل کرتے ہوئے ’گانجہ ‘ کی کاشت کی جانے لگی ہے اور یہ کاشت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ شہر حیدرآباد میں منشیات کی بڑھتی ہوئی طلب کو دیکھتے ہوئے گانجہ کی کاشت کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ ریاست تلنگانہ اور شہر حیدرآبادکو منشیات سے پاک بنانے کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے شعور بیداری اقدامات کے علاوہ سخت کاروائیوں کے باوجود شہر میں منشیات کے عادی نوجوانوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر حیدرآباد میں گھر میں ’گانجہ ‘ کی پیداوار کے رجحان میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور گھروں میں ’گانجہ ‘ پیدا کرتے ہوئے اس کی نہ صرف فروخت کی جا رہی ہے بلکہ بسا اوقات استعمال کرنے والوں نے بھی گانجہ کی پیداوار اپنے ہی گھروں میں شروع کردی ہے۔شہر حیدرآباد میں مکان کرایہ پر لیتے ہوئے گھر کے اندرونی حصوں میں ’گانجہ ‘ کی کاشت کرنے والے بیرونی شہری شہر کے مختلف گنجان آبادیوں میں مکان کرایہ پر حاصل کرتے ہوئے یہ سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں جبکہ پڑوس میں رہنے والے افراد کو اس بات کا احساس تک نہیں ہورہا ہے کہ ان کے اپنے گھروں کے پاس گانجہ کی پیداوار ہونے لگی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ اکسائز اور انسداد منشیات کے لئے کام کرنے والی ایجنسیوں نے گذشتہ 3 برسوں کے دوران شہر حیدرآباد وسکندرآباد کے علاوہ اطراف کے علاقوں سے 21ہزار گانجہ کے پودے ضبط کئے ہیں جبکہ سال 2025 کے دوران زائد از 90 مقامات پر گانجہ کی پیداوار پر کاروائی کی گئی ہے۔ بنگلورو میں شادی شدہ جوڑے کی جانب سے اپنے فلیٹ کی بالکونی میں موجود پودوں کی ویڈیو وائرل کئے جانے کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ اس میں ’گانجہ ‘ کے پودے بھی موجود ہیں۔ اسی طرح شہر حیدرآباد کے نواحی علاقہ ونستھلی پورم میں گانجہ کی کاشت کرنے والے نوجوان کو حراست میں لیاگیا ۔چکڑ پلی کے علاوہ گچی باؤلی کے علاقہ میں بھی ’گانجہ ‘ کی کاشت کا انکشاف ہوا تھا ۔چند یوم قبل محبوب منشن مارکٹ (ملک پیٹ) کی چھت پر گانجہ کی کاشت کرنے والے دو ’بہاری ‘ نوجوانوں کو گرفتار کیاگیا ہے۔ اس کے علاوہ شہر حیدرآباد کے مختلف علاقوں بالخصوص گنجان آبادیوں کے درمیان کی جانے والی ’گانجہ ‘ کی کاشت شہر میں نوجوانوں کو منشیات کی لعنت کا شکار بنانے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ’گانجہ ‘ کی کاشت میں ملوث ہونے والے بیشتر نوجوانوں کا تعلق بہار‘ بنگال ‘ اوڈیشہ ‘ آسام اور آندھراپردیش سے ہے جو مکان کرایہ پر حاصل کرتے ہوئے یہ کاشت کر رہے ہیں اور مقامی نوجوانوں کے ذریعہ ان منشیات کی فروخت کا انتظام کرنے لگے ہیں۔3