مکانات کی ڈیجیٹل نمبر اندازی اور جیومیاپنگ کا اعلان ،عمل ندارد

   

درکار فنڈس کا جی ایچ ایم سی کو انتظار
حیدرآباد۔25فروری(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں مکانات کی ڈیجیٹل نمبر اندازی اور جیو میاپنگ کے متعدد اعلانات کئے گئے لیکن تاحال مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے شہرحیدرآباد کے مکانات کی ڈیجیٹل نمبر اندازی کے علاوہ جیو میاپنگ کے عمل کا آغازنہیں کیا جاسکا ہے جبکہ شہر حیدرآباد کے مکان نمبرات کو تبدیل کرنے اور انہیں آسان بنانے کا منصوبہ عرصہ دراز سے جی ایچ ایم سی کے پاس موجود ہے لیکن اس پر عمل آوری کے لئے اقدامات کے سلسلہ میں دریافت کرنے پر کہا جا رہاہے کہ نوآبادیاتی علاقو ںمیں نئی تعمیرات کے سبب جی ایچ ایم سی کی جانب سے اس عمل کو شروع نہیں کیا جا رہا ہے علاوہ ازیں اگر ڈیجیٹل نمبر اندازی کا عمل شروع کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں تیزی کے ساتھ اس عمل کو مکمل کرنا پڑے گا اسی لئے درکا فنڈس اکٹھا ہونے کے بعد ہی جی ایچ ایم سی کی جانب سے فنڈس کا انتظار کیا جا رہاہے۔ذرائع کے مطابق مارچ 2022 سے شہر میں ڈیجیٹل نمبراندازی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ڈیجیٹل نمبراندازی کے علاوہ جیو میاپنگ کے متعلق دریافت کرنے پر عہدیدارو ںسے دریافت کرنے پر کہا جا رہاہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اس منصوبہ کو منظوری حاصل ہوچکی ہے لیکن اس کے باوجود فنڈس کی قلت کے سبب دونوں منصوبوں کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا ہے۔ محکمہ بلدی نظم ونسق کے عہدیدارو ںنے بتایا کہ شہر حیدرآباد میں ڈیجیٹل نمبراندازی کے سلسلہ میں جاری اقدامات کو بڑی حد تک مکمل کرلیا گیا ہے اور ڈاٹا تیار ہے لیکن تکنیکی وجوہات کی بناء پر اس ڈاٹا کو منظر عام پر نہیں لایا جارہا ہے۔ اس پراجکٹ پر کام کرنے والے تکنیکی ماہرین نے بتایا کہ جی ایچ ایم سی حدود میں تجرباتی طور پر انجام دیئے جانے والے اس پراجکٹ کی تکمیل کے لئے شہر حیدرآباد میں موجود تمام رہائشی عمارتوں ‘ مکانات ‘ تجارتی اداروں کے علاوہ تمام مقامات بشمول کھلی اراضیات ‘ سرکل نمبر ‘ راشن کی دکانات ‘ دواخانوں اور دیگر اہم مقامات کی بھی نشاندہی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اس پراجکٹ کے سلسلہ میں عہدیدارو ںنے بتایا کہ اگر جاریہ مالی سال کے دوران بجٹ کی اجرائی عمل میں لائی جاتی ہے تو ایسی صورت میں ماہ مارچ سے نمبر اندازی کا عمل شروع کردیا جائے گا اور ان ڈیجیٹل بلدی نمبرات میں برقی میٹر ‘ نل کے میٹر کے علاوہ دیگر تفصیلات بھی شامل کرلی جائیں گی تاکہ مکینوں اور عہدیدارو ںکو بھی سہولت حاصل رہے۔م