مکہ اور مدینہ میں صف بندی میں فاصلے کویقینی بنانے کمیٹی قائم

   

مقدس مساجد میں ہونے والی نمازوں اور تراویح کی سخت نگرانی ،دیگر مساجد میں صرف اذان پر ہی اکتفا

مکہ۔29 اپریل (سیاست ڈاٹ کام)سعودی عرب میں حرم مکی اور مسجد نبویﷺ میں نماز باجماعت کے دوران صفوں میں فاصلہ رکھنے پرعمل کو یقینی بنانے کے لیے مقررہ کمیٹی نے انتظام سنبھال لیا۔کورونا وائرس سے حفاظت کے لیے صرف حرمین شریفین میں محدود پیمانے پر فرض نمازوں اور تراویح کا باجماعت اہتمام کیا جارہا ہے۔ باجماعت نماز کی ادائیگی کے لیے حرمین شریفین میں کام کرنے والے ہی شرکت کرسکتے ہیں۔ادارہ امور حرمین شریفین کی جانب سے راہ داریوں کی نگران کمیٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ جماعت کے دوران نمازیوں کے مابین مناسب فاصلے کا تعین کریں۔میڈیا نے اس حوالے سے ادارہ حرم کی سلامتی اور کراوڈ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر فائز الحارثی سے گفتگو کی جنہوں نے کہا کہ ادارے کے کارکن نماز باجماعت کیلیے صف بندی کا انتظام کرتے ہیں اور آنے والے نمازیوں کو صف میں فاصلہ رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے تاکہ کووڈ 19 کی وبا کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔الحارثی نے مزید کہا کہ حرم مکی میں انتہائی محدود مقام نماز باجماعت کیلیے مخصوص کیا گیا ہے جسے نماز سیقبل مکمل طور پر سینیٹائز کیا جاتا ہے ، مصلے میں مقررہ نمازیوں کی مقررہ تعداد پوری ہونے کے بعد اس مقام کو دیگر نمازیوں کیلیے بند کردیاجاتاہے۔نگران کمیٹی کے ڈائریکٹر ناصر حمزی نے کہا ہے کہ نماز کے اوقات میں کارکن مقررہ مقام کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں نماز کے لے ضوابط کے تحت صف بندی کا انتظام کیا جاتا ہے۔واضح رہے حرمین شریفین کیعلاوہ مملکت کی کسی مسجد نماز باجماعت یا تراویح کی جماعت ادا نہیں کی جارہی بلکہ ہر اذان کے ساتھ موذن گھروں میں نماز ادا کریں کے الفاظ ادا کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو اس وبائی مرض سے محفوظ رکھا جاسکے۔ خصوصی ہدایات کی گئی ہیں زیادہ سے زیادہ وقت گھروں میں گزاریں تاکہ جلد اس وبائی مرض سے چھٹکارہ مل سکے۔

حرم میں کمپیوٹرائزڈ تھرمل کیمرے
ریاض۔29 اپریل (سیاست ڈاٹ کام)سعودی عرب کے ادارہ امور حرمین شریفین کے نگران اعلی شیخ ڈاکٹر عبدالرحمان السدیس نے حرم مکی میں کمپیوٹرائزڈ تھرمل کیمروں کا افتتاح کر دیا ہے۔افتتاح کے بعد شیخ السدیس نے حاضرین سے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حرم مکی میں کام کرنے والے تمام افراد کے لیے لازم ہے کہ وہ حرم میں داخل ہونے سے قبل تھرمل کیمروں کی اسکرننگ سے گزریں۔اگر کسی کا درجہ حرارت بڑھا ہوا ہے تو اسے حرم مکی آنے کی اجازت نہیں ہوگی بلکہ وہ مزید معائنوں کیلئے متعلقہ ادارے سے رجوع کرے۔ تفصیلات کے مطابق ادارہ امور حرمین کے نگران شیخ السدیس نے مزید کہا کسی کو موجودہ حالات کے حوالے سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد مملکت ذاتی طور پر حرمین آنے والوں کی صحت کے امور کے حوالے سے مسلسل نگرانی کرتے ہیں۔