مکہ مسجد اور شاہی مسجد میں آج سے نمازوں کا آغاز، مسلمانوں میں مسرت کی لہر

   

50 مصلیوں کی اجازت ہوگی، کورونا کی روک تھام کیلئے گائیڈ لائنس پر عمل کرنے کی اپیل
حیدرآباد۔ پانچ ماہ کے طویل انتظار کے بعد ہفتہ سے تاریخی مکہ مسجد اور شاہی مساجد باغ عامہ کو پنچ وقتہ نمازوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔ اس فیصلے سے شہر کے مسلمانوں میں مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ حکومت نے 50 مصلیوں کی شرط پر دونوں مساجد میں نمازوں کے آغاز کی اجازت کا فیصلہ کیا ہے۔ سماجی فاصلے کی برقراری کے ساتھ نمازوں کا اہتمام کیا جائے گا جبکہ 21 ستمبر سے مساجد میں جمعہ کے بشمول 100 افراد کو عبادت کی اجازت رہے گی۔ مارچ میں کورونا لاک ڈائون کے آغاز کے بعد سے دونوں مساجد کو مصلیوں کے لیے بند کردیا گیا تھا۔ عیدالفطر اور عیدالاضحی کی نمازیں بھی ان مساجد میں ادا نہیں کی گئیں۔ حکومت نے عیدین کے موقع پر عیدگاہوں کے استعمال کی اجازت نہیں دی۔ جمعہ کے موقع پر دونوں مساجد میں صرف پانچ افراد کے ساتھ نماز کا اہتمام کیا جارہا تھا۔ لاک ڈائون کے خاتمے کے باوجود کورونا کے پھیلائو کے خوف سے دونوں مساجد کو بدستور بند رکھا گیا کیوں کہ ان مساجد میں عام نمازوں کے لیے 200 سے زائد مصلی اور جمعہ کے موقع پر کئی ہزار افراد شریک ہوتے ہیں۔ ملک بھر میں اَن لاک 4 کے ذریعہ مرکزی حکومت نے مذہبی سرگرمیوں کے لیے بعض رعایتوں کا اعلان کیا ہے۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی نے اس سلسلہ میں وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور سے مشاورت کے بعد جائزہ اجلاس میں ہفتے سے مساجد میں نمازوں کی اجازت کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ محمد قاسم جو ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر بھی ہیں، بتایا کہ مساجد میں سماجی فاصلے کی برقراری کے لیے مارکنگ کی جائے گی۔ کووڈ۔19 گائیڈ لائینس پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ مساجد کو سانیٹائز کرتے ہوئے عوام سے بھی خواہش کی گئی ہے کہ وہ حکومت کے گائیڈ لائنس پر عمل کریں۔ مساجد میں مارکنگ کی صورت میں سماجی فاصلے کی برقراری ہوسکتی ہے۔ 10 سال سے کم عمر کے بچوں اور 60 سال سے زائد عمر کے افراد کے داخلے پر پابندی رہے گی۔ مصلیوں کو اپنے ساتھ جائے نماز لانا ہوگا۔ مکہ مسجد میں حوض اور ٹائلٹس کی تعمیر کا کام جاری ہے لہٰذا مصلیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ گھروں سے باوضو مسجد پہنچیں۔ تاریخی مکہ مسجد کو سیاحوں کے لیے کھولنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں بعد میں فیصلہ ہوگا۔ مساجد کے گیٹس صرف اوقات نماز کے وقت کھلے رہیں گے۔ عام دنوں میں نماز کی ادائیگی کے لیے دشواری نہیں ہوگی تاہم امکان ہے کہ جمعہ کے موقع پر محدود تعداد کو یقینی بنانے میں مسجد کے نگرانکاروں کو دشواری ہوسکتی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلی عہدیداروں نے آج سپرنٹنڈنٹ مکہ مسجد عبدالقدیر صدیقی سے انتظامات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ سپرنٹنڈنٹ مکہ مسجد نے بتایا کہ حکومت کی ہدایت کے مطابق مکہ مسجد کے باب الداخلہ پر اسکریننگ اور سانیٹائزر کا انتظام کیا جائے گا۔ انہوں نے مصلیوں سے اپیل کی کہ وہ کورونا وباء کے پیش نظر حکومت کے قواعد کو ملحوظ رکھیں۔