مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین کو آوٹ سورسنگ کرنے کا فیصلہ

   

خانگی کمپنیوں کی من مانی ممکن ، حکومت کا ائمہ و موذنین کے ساتھ کھلواڑ
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے ریاست کے مختلف محکمہ جات میں عارضی طور پر خدمات انجام دینے والے ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے اقدامات کے دعوے کئے جا رہے ہیں لیکن مکہ مسجد و شاہی مسجد کے ملازمین کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا ہے وہ اس کے بالکل برخلاف ہے اور جو ملازمین مکہ مسجد اور شاہی مسجد میں عارضی طور پر خدمات انجام دیا کر تے ہیں ان کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے بجائے حکومت کی جانب سے ان ملازمین کی خدمات کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے اقتدار حاصل کرنے سے قبل اس بات کا اعلان کیا گیا تھا کہ ریاستی حکومت تمام محکمہ جات میں خدمات انجام دینے والے ایسے ملازمین جن کی خدمات عارضی طور پر حاصل کی گئی ہیں انہیں مستقل بنانے اور باقاعدہ بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے اور بعض محکمہ جات میں ایسا کیا گیا لیکن جہاں تک تاریخی مکہ مسجد اور شاہی مسجد باغ عامہ میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کا مسئلہ ہے ان کے مسائل کو ہمیشہ سے ہی نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اور اب بھی ان کے مسائل کو حل کرتے ہوئے ان کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے بجائے انہیں آؤٹ سورس کرنے کے سلسلہ میں اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے مکہ مسجد اور شاہی مسجد باغ عامہ کے امور خانگی کمپنی کے حوالہ کرتے ہوئے ان مساجد میں خدمات انجام دینے والے ملازمین بشمول آئمہ و خطیب کے ساتھ مؤذنین کو بھی اس کمپنی سے جوڑدینے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے تاکہ دونوں مساجد کے اخراجات اور امور میں سرکاری مداخلت نہ ہو لیکن اگر ایسا کیا جاتا ہے تو دونوں تاریخی مساجد میں خدمات انجام دینے والے عملہ کی ملازمتیں کبھی مستقل نہیں ہوپائیں گی اور ہر سال ملازمین کو تبدیل کرنے کا اختیار خانگی کمپنی کو حاصل رہے گا۔ ملازمین نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی اس ناانصافی اور سوتیلے سلوک کے متعلق وہ مسلسل نمائندگیاں کرتے آئے ہیں اور اپنی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود حکومتوں سے دونوں تاریخی مساجد کے ذمہ دارو ںکو کچھ حاصل نہیں ہوا بلکہ ہر حکومت کے دور میں ان مساجد کے ملازمین کو ارباب مجاز کی جانب سے صرف تیقنات دیئے گئے اور عمل آوری کے سلسلہ میں توجہ دہانی کروانے پر انتباہ دیا جاتا رہا لیکن اب تو حکومت کی جانب سے ان کی ملازمت کو ہی بالواسطہ طور پر ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے اس بات کا وعدہ کیا گیا تھا کہ مکہ مسجد اور شاہی مسجدکے ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنایا جائے گا اور ملازمین کی تعداد میں اضافہ کے اقدامات کئے جائیں گے۔