گھروں میں ظہر کا اہتمام ، مساجد کے اطراف پولیس کی چوکسی، احکام میں ترمیم کیلئے عوام کی اپیل
حیدرآباد: تلنگانہ میں لاک ڈاؤن کے بعد سے مساجد میں عبادت پر پابندی برقرار ہے۔ گریٹر حیدرآباد میں مسلسل دوسرے جمعہ کو مساجد میں نماز کا اہتمام نہیں کیا جاسکا۔ حکومت نے تمام عبادتگاہوں کو بند کرنے احکامات جاری کئے ہیں تاہم عیدالفطر کے موقع پر چار افراد کو نماز کی اجازت دی گئی تھی ۔ گزشتہ جمعہ اور آج تاریخی مکہ مسجد میں نماز جمعہ کا اہتمام نہیں کیا گیا ۔ شہر کی کئی بڑی مساجد میں نماز جمعہ کی اجازت نہیں تھی جسکے نتیجہ میں مسلمانوں نے گھروں میں نماز ظہر ادا کی۔ بعض مساجد میں 4 تا 5 مصلیوں کے ساتھ نماز جمعہ ادا کی گئی۔ صبح سے پولیس نے مساجد کمیٹیوں کو پابند کردیا تھا کہ نماز جمعہ کے اہتمام کی کوشش نہ کریں ۔ کئی مساجد سے اعلان کیا گیا کہ نماز جمعہ کیلئے مسجد آنے کی بجائے گھر میں نماز ظہر کا اہتمام کرلیں۔ شرعی نقطہ نظر سے نماز عید اور نماز جمعہ کیلئے اذن عام ضروری ہے۔ مساجد میں جب داخلہ کی اجازت نہیں ہے تو نماز جمعہ کا اہتمام نہیں ہوسکتا۔ 10 بجے لاک ڈاؤن کے آغاز کے ساتھ ہی پولیس نے مساجد کے اطراف پٹرولنگ میں اضافہ کردیا۔ کئی مساجد میں معمول کے مطابق اذاں دی گئی اور پھر محدود تعداد کے ساتھ نماز ادا کی گئی ۔ سپرنٹنڈنٹ مکہ مسجد عبدالقدیر صدیقی نے بتایا کہ احکامات کے تحت گزشتہ جمعہ اور آج بھی نماز جمعہ کا اہتمام نہیں کیا گیا ۔ مسجد ملازمین دیگر نمازیں ادا کر رہے ہیں۔ پرانے شہر میں نماز جمعہ کے موقع پر پولیس چوکسی دیکھی گئی اور مکہ مسجد کے قریب سینئر عہدیدار انتظامات کی نگرانی کر رہے تھے۔ صبح ہی مکہ مسجد کے باب الداخلہ کو مقفل کردیا گیا تھا ۔ نماز جمعہ کی اجازت نہ دینے پر مسلمانوں میں بے چینی ہے، سابق میں جس طرح محدود تعداد کے ساتھ پنجوقتہ اور نماز جمعہ کی اجازت دی گئی تھی۔ اس مرتبہ بھی حکومت کو احکام میں ترمیم کرکے محدود تعداد میںنمازوںکے اہتمام کی اجازت دینی چاہئے ۔ جمعہ کے پیش نظر کئی علماء اکرام نے آن لائین خطاب میں فلسطینی عوام کے حق میں خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا ۔