مکہ مسجد بم دھماکہ کے ذمہ دار کون ہیں؟

   

ملزمین کو کیفر کردار تک پہونچانے سے متعلق خاموشی، شہداء کے لواحقین انصاف سے محروم

محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔26۔ نومبر۔ سال 2007 میں مکہ مسجد میں ہوئے بم دھماکہ کے ذمہ دار کون ہیں ! ملک کی سب سے بڑی ایجنسی این آئی اے نے مکہ مسجد بم دھماکہ کی تحقیقات کی اور اب تک کسی بھی مجرم کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاسکا ہے اور نہ ہی کسی کی نشاندہی کی گئی ہے بلکہ مکہ مسجد بم دھماکہ کے سلسلہ میں چلائے جانے والے مقدمہ میں بری ہونے والوں کے خلاف این آئی اے نے کوئی اپیل نہیں کی اور نہ ہی ریاستی حکومت کی جانب سے کوئی توجہ دہانی کروائی گئی کہ تاریخی مکہ مسجد میں ہوئے بم دھماکہ کے ملزمین کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے کوئی کوشش کی جائے ۔ 2007 میں ہوئے مکہ مسجد بم دھماکہ کے بعد ریاستی حکومت نے اپنے طورپر ریاستی حکومت کی ایجنسی کے ذریعہ اس کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا لیکن بعد ازاں یہ تحقیقات سی بی آئی کے حوالہ کردی گئی لیکن 2014 میں این آئی اے ایکٹ روشناس کروائے جانے کے بعد ملک بھر کے کئی بم دھماکوں کے مقدمات کو تحقیقات کے لئے این آئی اے کے حوالہ کردیا گیا اور مکہ مسجد بم دھماکہ کی تحقیقات بھی این آئی اے کے حوالہ کردی گئی لیکن 2018 میں این آئی اے کورٹ نے بم دھماکہ میں ملوث افراد کو عدم شواہد کی بنیاد پر رہا کردیا لیکن این آئی اے کی جانب سے اس فیصلہ کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کی گئی اور نہ ہی ریاستی حکومت کی جانب سے تاریخی مکہ مسجد میں بم دھماکہ میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین کو انصاف دلوانے کی کوئی کوشش کی گئی بلکہ این آئی اے کی تحقیقات اور ملزمین کی برأت کے باوجود حکومت کے تمام گوشوں اور منتخبہ عوامی نمائندوں کی جانب سے اختیار کی گئی مجرمانہ خاموشی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مکہ مسجد بم دھماکہ میں ملوث ’’ہندوتوا دہشت گردوں‘‘ کو بچانے کے لئے نہ صرف این آئی اے نے بلکہ ریاستی حکومت نے بھی خاموشی اختیار کرتے ہوئے انہیں محفوظ راستہ فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دھماکہ میں میں شہید ہونے والوں کی تحقیقات این آئی اے کی جانب سے کی گئی لیکن مابعد دھماکہ ہونے والی پولیس فائرنگ کی تحقیقات کے سلسلہ میں قائم کئے گئے
بھاسکر راؤ کمیشن کی رپورٹ بھی حکومت کو پیش کی جاچکی ہے لیکن اس کے باوجود اس رپورٹ کو گذشتہ 10 برسوں کے دوران ایوان میں پیش نہیں کیا گیا بلکہ بھاسکر راؤ کمیشن رپورٹ کو منظر عام پر لانے کے سلسلہ میں کئی بار نمائندگیاں کی گئیں اور حکومت کی توجہ مبذول کروانے کے اقدامات کئے گئے جو کہ بے فیض ثابت ہوئے۔ تاریخی مکہ مسجد بم دھماکہ میں جو نام منظر عام پر آئے تھے اور جن لوگوں نے دھماکہ کرنے کا اعتراف کیا تھا وہ موجودہ حکومت کے دور میں جیلوں سے رہا ہوئے لیکن موجودہ حکومت نے ان کی رہائی کے خلاف کوئی کاروائی یا مرکزی حکومت کی وزارت داخلہ سے نمائندگی نہیں کی اور نہ ہی بھاسکر راؤ کمیشن کی رپورٹ کو ایوان اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے اس پر مباحث کروائے گئے جبکہ اگر اس رپورٹ کو ایوان میں پیش کرتے ہوئے اس پر مباحث کو یقینی بنایا جاتا تو کم از کم مابعد دھماکہ پولیس فائرنگ میں شہید ہونے والے نوجوانوں کے خاندانوں کو انصاف ملتا اور اس کمیشن کی رپورٹ کو پیش کرنا ریاستی حکومت کے اختیار کی بات تھی اور اس کے لئے حکومت کو مرکزی حکومت این آئی اے یا وزارت داخلہ کی اجازت درکار نہیں تھی۔