چھت پجرنے لگی ، جائے نمازوں کو نقصان ، محکمہ اقلیتی بہبود خواب غفلت میں ، مصلیوں کی شدید برہمی
حیدرآباد۔5مئی(سیاست نیوز)مکہ مسجد کے تعمیری و مرمتی کاموں کی تکمیل کے دعوے تو کئے گئے اور ان کاموں کی انجام دہی کرنے والے سیاسی کنٹراکٹر کے ساتھ ساتھ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے بھی وقت سے پہلے کام مکمل کرلئے جانے اور ماہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل مرمتی کاموں کی تکمیل کے دعوے کئے لیکن ماہ رمضان المبارک کے گذرنے کے ایک یوم بعد ہی تاریخی مکہ مسجد میں انجام دیئے گئے مرمتی کاموں کی قلعی کھل گئی ۔ گذشتہ یوم ہونے والی بارش کے سبب مکہ مسجد کے اندرونی حصہ میں پانی داخل ہونے کے معاملہ میں یہ کہا جا رہاتھا کہ مسجد کے اندرونی حصہ میں موجود کمانوں کی جالیوں میں بارش کے پانی کی پچھاڑ داخل ہونے کے سبب جائے نمازیں بھیگ گئی تھیں لیکن شام ہوتے ہوتے اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ تاریخی مکہ مسجد کی چھت کے مرمتی کام انتہائی ابتر انداز میں مکمل کئے گئے ہیں جس کے سبب چھت پجر رہی ہے اور چھت سے ٹپکنے والے پانی کے سبب جائے نماز وں کو نقصان پہنچا ہے۔ مکہ مسجد میں خدمات انجام دینے والے ملازمین نے بتایا کہ مکہ مسجد کے اندرونی حصہ میں پانی داخل ہونے کا یہ پہلا واقعہ ہے جبکہ سابق میں چھت کے جو مسائل تھے ان مسائل کے باوجود چھت اس قدر نہیں ٹپکتی تھی جو اب ٹپک رہی ہے۔ مکہ مسجدکی چھت کی مرمت اور دیگر امور کی تکمیل کے لئے محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے کروڑہا روپئے خرچ کرنے کے دعوے کئے گئے اور سرکردہ پولیس عہدیداروں کی نگرانی میں ان کاموں کی تکمیل کے باوجود اگر اس طرح کے کام انجام دیئے گئے ہیں تو اب یہ ان عہدیداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کنٹراکٹر کے خلاف کاروائی کو یقینی بناتے ہوئے انہیں ادا کی گئی رقومات واپس حاصل کرنے کے علاوہ مسجد کی چھت کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کاروائی کو یقینی بنائیں۔ محکمہ میں خدمات انجام دینے والے عہدیداروں کے مطابق محکمہ پولیس سے وابستہ عہدیداروں کو محکمہ اقلیتی بہبود میں لاتے ہوئے بعض عہدیدار اپنے مخبر بناکر رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور محکمہ اقلیتی بہبود میں بھی وہ مخبری کے ذریعہ کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ یہ حقیقت ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کو محکمہ پولیس کی طرح نہیں چلایا جاسکتا ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں اور ان افراد کو جو مکہ مسجد کے مرمتی و تعمیری کاموں پر اطمینان کا اظہار کرچکے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ فوری طور پر تاریخی مکہ مسجد کے اندرونی حصہ میں پانی داخل ہونے کی وجوہات اور چھت کی حقیقی صورتحال سے آگہی کے حصول کے لئے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے رپورٹ طلب کریں اور اگر چھت ٹپکنے میں اضافہ ہوا ہے تو ایسی صورت میں کنٹراکٹر کے علاوہ نگران عہدیداروں کے خلاف کاروائی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں ۔م