مکہ مسجد کے مرمتی کاموں سے حکام کی لاپرواہی، 4 جمعہ سے امامت کا مقام تبدیل

,

   

مسجد کا باب الداخلہ بند، کنٹراکٹر اور آرکیالوجیکل سروے میں تال میل کی کمی، مرمتی کام مسدود
حیدرآباد 31 اکٹوبر (سیاست نیوز) تاریخی مکہ مسجد کی تزئین نو اور مرمتی کاموں کے سلسلہ میں حکام کی لاپرواہی اور اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ چار جمعہ سے جمعہ کی امامت کا مقام تبدیل کردیا گیا کیوں کہ مصلیٰ کے مقام پر کنٹراکٹر نے تعمیری اور مرمتی کاموں کو روک دیا ہے۔ 8 کروڑ 48 لاکھ روپئے پر مشتمل اس پراجکٹ کے لئے تاحال 5 کروڑ روپئے جاری کردیئے گئے لیکن کنٹراکٹرس کو شکایت ہے کہ اُنھوں نے مقررہ تخمینہ سے زیادہ رقم خرچ کردی ہے اور حکومت اضافی رقم جاری کرنے تیار نہیں۔ گزشتہ تقریباً دو ماہ سے مکہ مسجد کے اندرونی اور بیرونی حصہ میں تعمیری اور مرمتی کام عملاً بند ہیں۔ کنٹراکٹر محض 5 تا 10 ورکرس کو برائے نام طور پر مشغول رکھے ہوئے ہے تاکہ یہ تاثر دیا جائے کہ کام جاری ہے۔ مکہ مسجد کا باب الداخلہ بھی ایک عرصہ سے بند کردیا گیا کیوں کہ گیٹ کی درستگی کے علاوہ اوپری حصہ کی چھت اور میناروں کا کام باقی ہے۔ کنٹراکٹر کا کہنا ہے کہ اُس کے ذمہ چھت اور میناروں کی تزئین نو کا کام شامل نہیں ہے اور وہ صرف گیٹ کو درست کرنے کے پابند ہیں۔ مکہ مسجد کے عہدیداروں کے اصرار پر کنٹراکٹر نے اضافی رقم کی منظوری کی شرط پر کام سے اتفاق کیا لیکن وہ کام بھی سست رفتاری کا شکار ہوچکا ہے۔ جمعہ اور عام دنوں میں متصل چھوٹی گیٹ کو استعمال کیا جارہا ہے جس سے مصلیوں کو کافی دشواری ہورہی ہے۔ عارضی شیڈ تعمیر کرتے ہوئے میٹل ڈٹیکٹر نصب کئے گئے۔ اِسی دوران صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے لئے مزید ایک کروڑ روپئے جاری کئے۔ اِس طرح وقف بورڈ سے تاحال 5 کروڑ روپئے کی اجرائی مکمل ہوچکی ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ مسجد کے اندرونی حصے میں امام کے مقام اور اطراف کی گنبدوں کو تزئین نو کے لئے حوالے کیا گیا اور وہاں نماز کی ادائیگی ممکن نہیں ہے لہذا جمعہ کا خطبہ درمیانی حصہ میں لکڑی کے تیار کردہ منبر سے دیا جارہا ہے۔ مسجد کے اندرونی حصہ میں مصلیوں کی گنجائش کم ہوچکی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں سے اِس صورتحال کے باوجود محکمہ اقلیتی بہبود کے کسی اعلیٰ عہدیدار نے مسجد کا معائنہ کرنے کی زحمت نہیں کی۔ اگر کام کی یہی رفتار برقرار رہی تو رمضان المبارک تک بھی کام مکمل نہیں ہوں گے۔ کنٹراکٹر کو جو مہلت دی گئی تھی وہ ایک سال قبل ہی مکمل ہوگئی۔ کنٹراکٹر اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے درمیان تال میل کی کمی کے نتیجہ میں مسجد کا کام متاثر ہورہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رقم کی منظوری کے ساتھ ہی آرکیالوجیکل سروے کے عہدیدار کنٹراکٹر سے مبینہ کمیشن حاصل کرلیتے ہیں جس کے باوجود رقم کی اجرائی میں تاخیر کی جارہی ہے۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے عہدیداروں پر حکومت کی کوئی نگرانی یا جوابدہی نہ ہونے کے سبب تاریخی مکہ مسجد کا کام دن بہ دن طوالت اختیار کررہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مسجد کے حکام نے موجودہ صورتحال کے بارے میں محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں کو واقف کرادیا ہے لیکن اِس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ مکہ مسجد کی چھت کو بارش سے محفوظ کرنے کا کام مکمل ہوا لیکن اندرونی حصے میں پانی کی آمد کو روکنے کا کام ابھی باقی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مدرسۃ الحفاظ اور شاہی مقبرے کی چھت اور دیواروں کا کام بھی باقی ہے۔ مدرسۃ الحفاظ کی چھت انتہائی بوسیدہ ہوچکی ہے اور معمولی مرمت سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ مکمل چھت کو تبدیل کرنا پڑے گا۔ مصلیوں نے حکومت کے عہدیداروں اور عوامی نمائندوں کی بے حسی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہاکہ مسجد کی مین گیٹ بند ہونے اور اندرونی حصے میں نماز کی ادائیگی میں دشواریوں کا کسی کو احساس نہیں ہے۔