مخصوص کمپنی کو حکومت کی طرفداری اور منتخبہ نمائندوں کی خاموشی لمحہ فکر
حیدرآباد۔30 ستمبر(سیاست نیوز) حکومت نے مکہ مسجد میں جاری مرمتی کاموں اور آہک پاشی کیلئے سال 2017 میں 8کروڑ 48لاکھ روپئے تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے ذریعہ دینے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے ساتھ ہی مرمتی کاموں کی شروعات کیلئے ممبئی کی کمپنی ’’لکشمی ہیری کان پرائیویٹ لمیٹڈ ‘‘ کو یہ ٹھیکہ فراہم کیا گیا تھااور کہا گیا تھا کہ جلد از جلد ان کاموں کو مکمل کرلیا جائے گا لیکن گذشتہ دو برس سے یہ کام تعطل کا شکار ہیں اور اب کہا جا رہاہے کہ یہ کام سال 2020میں مکمل کئے جائیں گے۔ مرمتی کاموں کی شروعات کے بعد سے ارکان پارلیمان‘ ریاستی وزراء ‘ ارکان اسمبلی کے علاوہ مشیر حکومت اور کئی عہدیداروں نے کاموں کا جائزہ لیا اور ہر دورہ کے بعد ایک تاریخ کا اعلان کیا گیا لیکن گذشتہ دورہ کے بعد یہ کہہ دیا گیا کہ ان کاموں کی تکمیل 2020 تک مکمل کی جائے گی ۔ہیری کان پرائیویٹ لمیٹڈ نے تاریخی عمارتو ںکی مرمت و آہک پاشی کے کاموں میں مہارت کا دعوی کرتے ہوئے یہ کام حاصل کئے لیکن ان کاموں کو ذیلی کنٹراکٹر کے حوالہ کردیا اور مرمتی کاموں کے دوران ذیلی کنٹراکٹر نے کئی دھاندلیوں کی نشاندہی بھی کی لیکن ان کو نظر انداز کردیا گیا اور اب کہاجا رہاہے کہ حکومت نے مکہ مسجد کے مرمتی و تعمیری کاموں کے تخمینہ بجٹ میں مزید اضافہ کا فیصلہ کیا ہے اور ان کاموں کی تکمیل تک کے تخمینہ کے متعلق اندازہ لگایاجارہا ہے کہ یہ 10کروڑ تک پہنچ جائیں گے ۔مسجد کے مرمتی کاموں کی تلنگانہ جاگرتی کے مہاراشٹرصدر کی کمپنی کو حوالگی اور بجٹ میں اضافہ کے اقدامات کے علاوہ کاموں کی تکمیل کیلئے طئے کی جانے والی مدت میں بار بار توسیع سے واضع ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت کس کی طرفداری کر رہی ہے اور کیوں یہ طرفداری کی جاری ہے ۔حکومت کی اس طرفداری پر منتخبہ عوامی نمائندوں کی خاموشی بھی کئی باتوں کی سمت اشارہ کرتی ہے۔