مشرق وسطیٰ کے تمام علاقوں میں بھی کورونا وائرس کے خوف سے مساجد خالی
6 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اسلام کے دو مقدس مقامات مکہ مکرمہ کے حرم پاک اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں نماز جمعہ کے موقع پر مصلیان کی تعداد کم دیکھی گئی۔ کورونا وائرس کے خوف کا سایہ آج ساری دنیا میں منڈلاتا نظر آیا۔ یروشلم سے لے کر مکہ مکرمہ تک مسلمانوں نے نماز جمعہ کے موقع پر بارگاہِ خداوندی میں اِس عذاب سے نجات کیلئے رقت انگیز دعائیں کی گئیں۔ بعض مساجد میں نماز جمعہ کا اجتماع منسوخ کیا گیا اور بعض جگہ مصلیوں کی تعداد کم دیکھی گئی۔ یہ وائرس دنیا کا سب سے مہلک ترین وائرس سمجھا جارہا ہے جس میں انسان سے انسان کی قریبی ملاقات وائرس کی منتقلی کا سبب بن رہی ہے۔ حکام نے عالمی سطح پر اِس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے کھلے عام نمازوں کی ادائیگی کے بشمول اجتماعات پر پابندی لگائی ہے۔ اسلام کے مقدس مقام مکہ مکرمہ حرم شریف کے ایک حصہ کو نماز جمعہ کے لئے کھول دیا گیا تھا لیکن مصلیوں کی تعداد کم دیکھی گئی۔ مکہ میں مقیم مصری شہری نے کہاکہ حرم شریف کا یہ منظر میرے لئے صدمہ انگیز ہے۔ گزشتہ 20 سال کے دوران میں نے حرم کو اِس طرح خالی نہیں دیکھا۔ میں اپنے احساسات کا اظہار کرنے سے معذور ہوں۔ عام طور پر حرم شریف میں نماز جمعہ کے موقع پر کثیر اجتماع دیکھا جاتا ہے۔ عراق، ایران، فلسطین اور دیگر ملکوں میں نماز جمعہ کے موقع پر مساجد خالی خالی نظر آئیں۔ فلسطینی حکام نے یہاں پر کورونا وائرس سے متاثرہ 7 افراد کی توثیق کی تھی۔مسجد میں نماز پڑھنے والوں کی اکثریت نے اپنے چہروں پر ماسک لگالئے تھے۔ بیت اللحم میں بھی حکام نے مساجد اور چرچوں کو بند کردیا تھا۔
