سعودی حکومت کے قواعد کی پابندی ضروری ، آئندہ سال باقاعدہ آغاز: ناظر رباط حسین محمد الشریف
حیدرآباد۔/27اپریل، ( سیاست نیوز) مکہ مکرمہ میں نظام رباط میں تلنگانہ کے عازمین حج کے قیام پر جاری تعطل کے دوران ناظر رباط جناب حسین محمد الشریف نے انکشاف کیا کہ وہ جاریہ سال عازمین کے قیام کیلئے عمارتوں کے حصول کی مساعی کررہے ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائیگا کہ تلنگانہ کے کم از کم 500 عازمین کا رباط کے تحت قیام یقینی ہوسکے۔ اس سلسلہ میں باقاعدہ اعلان جلد کیا جائیگا ۔ عمارتوں کے انہدام سے نئی عمارتوں کے حصول میں دشواریوں کا سامنا ہے ۔ ناظر رباط کو یقین ہے کہ آئندہ سال سے ہر سال 1000 تا 1500 عازمین حج کو رباط کے تحت قیام کی سہولت فراہم کی جائیگی ۔ نظام رباط کے بارے میں بعض گوشوں سے پھیلائی جارہی غلط فہمیوں کا ازالہ کرکے جناب حسین محمد الشریف نے کہا کہ گذشتہ 27 برسوں سے وہ عازمین حج کی مخلصانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مارچ 2020 میں کوویڈ کے بعد عمارتیں 2022 تک بند رہیں اور سعودی حکومت کے نئے قواعد کے مطابق عمارتوں کی تزئین نو کیلئے بھاری خرچ درکار ہے۔ قواعد کے مطابق عمارتیں بشمول وقف عمارتیں صرف کمرشیل لائسنس کے تحت چلائی جاسکتی ہیں۔ رباط اور اطراف کے علاقوں میں توسیعی کام کا آغاز ہوا جس سے عمارتوں کی تزئین نو اور قانونی طور پر عازمین کے قیام کی راہ میں دشواری پیدا ہوچکی ہے۔ مکہ مکرمہ بتوکماں علاقہ میں تین عمارتیں بند ہیں اور کسی بھی وقت ان کے انہدام کا خطرہ ہے کیونکہ یہ علاقہ توسیعی ماسٹر پلان کا حصہ ہے لہذا ان عمارتوں میں سرمایہ کاری خطرہ سے خالی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بتوکماں علاقہ سے 2023 میں آمدنی حاصل کرکے بقایا جات کی ادائیگی کی جائے تو2024 میں رباط کا آغاز ہوسکتا ہے۔ بتوکماں کی تین عمارتوں کی گنجائش 1280 ہے اور سابق میں بستروں کو سال بھر استعمال میں رکھا گیا اور 9 ماہ میں بیک وقت 300 سے بھی کم افراد رباط سے استفادہ کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مستقبل میں ان عمارتوں سے آمدنی حاصل کرنے ایک ہوٹل گروپ سے اشتراک کرکے قیام کی گنجائش میں اضافہ کا منصوبہ ہے۔ ناظر رباط حسین محمد الشریف نے کہا کہ نظام وقف کے منشاء کے مطابق سابق ریاست حیدرآباد کے عازمین حج کو مکہ مکرمہ میں مفت قیام کی سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے۔ وہ اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ ایام حج کے علاوہ دیگر ایام میں عمرہ عازمین کیلئے بھی نظام رباط میں سہولت حاصل رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت کے نئے قواعد کے مطابق وہ عازمین حج کیلئے رباط کے انتظامات کی ہر ممکن مساعی کررہے ہیں۔ر