مکہ کا سکے والا برقعہ ماضی کی ثقافتی پہچان آج بھی زندہ

   

مکہ مکرمہ، 29 جون (ایجنسیز) مکہ مکرمہ کا سکے والا برقعہ خواتین کے روایتی لباس کی ایک منفرد علامت سمجھا جاتا ہے، جو شہر کی ثقافتی شناخت اور تاریخی ورثے کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ برقعہ عموماً سیاہ یا سرخ رنگ کے عمدہ کپڑے سے تیارکیا جاتا تھا، جس میں آنکھوں کے لیے مخصوص جگہ رکھی جاتی تھی۔ اس کے اگلے حصے پر سونے یا چاندی کے سکے نہایت خوبصورتی سے سلے جاتے تھے، جن کی وجہ سے اسے سکے والا برقعہ کہا جاتا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ سکے محض آرائش کے لیے نہیں ہوتے تھے بلکہ خواتین کی ذاتی بچت اور زیورات کا حصہ بھی سمجھے جاتے تھے۔ شادی، بچے کی پیدائش اور عید جیسے خوشی کے مواقع پر اس میں نئے سکے شامل کیے جاتے، جس سے یہ برقعہ معاشرتی حیثیت، مالی خوشحالی اور حسن کی علامت بن جاتا تھا۔ مکہ مکرمہ کے ہنرمند کاریگر اس برقعہ کو انتہائی مہارت سے تیارکرتے تھے اور سکوں کو خوبصورت انداز میں ترتیب دیتے تھے۔ کئی خاندان اس برقع کو قیمتی خاندانی ورثہ سمجھتے ہوئے نسل در نسل محفوظ رکھتے ہیں۔ اگرچہ آج یہ برقعہ روزمرہ استعمال میں نہیں رہا، تاہم مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والے ثقافتی میلوں، ورثہ نمائشوں اور روایتی تقریبات میں اسے اب بھی نمایاں مقام حاصل ہے، جہاں یہ شہرکی قدیم تہذیب اور ثقافتی شناخت کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ ایسے تاریخی اور ثقافتی نوادرات کی دستاویز بندی اور حفاظت قومی شناخت کو محفوظ رکھنے اور آئندہ نسلوں تک ثقافتی ورثہ منتقل کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔اس لباس کو آج بھی سعودی معاشرہ میں ایک منفرد مقام حاصل ہے اور آج بھی اسے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔